نئی دہلی: واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔صدر ٹرمپ نے
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور ایک “لون ولف” تھا یعنی ایسا فرد جو اکیلے ہی کارروائی کرتا ہے اور کسی تنظیم سے براہِ راست وابستہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا “میرا خیال ہے کہ اسے اکیلا
حملہ آور سمجھا جا رہا ہے اور میں بھی یہی محسوس کرتا ہوں۔”سلامتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس واقعے پر تشویش میں مبتلا نہیں ہیں تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کسی بھی امکان کو
مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی مکمل تفصیلات جلد سامنے آ جائیں گی اور ماہرین اس پر کام کر رہے ہیں۔ایران سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں بصورت دیگر وہ
جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے ماضی میں بی-2 بمبار طیاروں کے ذریعے کارروائیاں کیں اور اوباما دور کے ایران جوہری معاہدے کو ختم کیا، جسے انہوں نے “تباہ کن” قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا
کہ ایسے فیصلے کرنے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں لیکن انہیں اپنے اقدامات پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے ان کے عزم یا پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ موجودہ معلومات کے مطابق اس حملے کا
ایران سے براہِ راست کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق جاری رکھے گی۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے ڈنر کی تقریب کے دوران فائرنگ کی خبر سامنے آئی ہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
کو وہاں سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں ایک ہائی پروفائل پروگرام منعقد ہوا تھا جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی شریک تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جب صدر ٹرمپ ڈنر ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے تو اچانک وہاں
فائرنگ شروع ہو گئی، فائرنگ کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے اور ٹرمپ کو وہاں سے باہر نکال لیا۔اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں کئی لوگ ڈنر ٹیبل کے نیچے چھپتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ
فائرنگ کے بعد خوف کے ماحول میں ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔اس تقریب میں صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس اور پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ بھی موجود تھیں۔
