دشمن کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل آمادہ رہیں، ایرانی چیف جسٹس

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے چیف جسٹس حجت الاسلام غلام حسین محسنی اژه‌ای نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی ممکنہ نئی جارحیت کے مقابلے کے لیے ملک کے تمام اداروں اور قوتوں کو مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حجت الاسلام محسنی اژه‌ای نے صوبائی عدالتی محکموں کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی جانب سے دوبارہ حملے کا خطرہ موجود ہے، اس لیے ملک کے تمام شعبوں اور اداروں کو ہر لحاظ سے مکمل آمادگی برقرار رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ متکبر دشمن نے اپنی پوری طاقت اور وسائل کے ساتھ ایران کے خلاف ایک جنگ مسلط کی، مگر وہ اپنے کسی بھی ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ شکست خوردہ دشمن دوبارہ ایران کو نشانہ بنانے کے موقع کی تلاش میں ہے اور امکان ہے کہ وہ ایک بار پھر وحشیانہ جارحیت کا ارتکاب کرے۔

چیف جسٹس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف اداروں اور شعبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر پہلو سے سو فیصد اور مکمل تیاری برقرار رکھیں۔

چیف جسٹس نے امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی اور بحیرہ عمان میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کی ان شر انگیزیوں کا یقینی طور پر جواب دے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ نے بحیرہ عمان میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کے خلاف کھلی جارحیت کرتے ہوئے اپنے فوجی اہلکار جہاز پر اتارے اور اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنایا۔

ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے کا مناسب وقت پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *