غور کرنے والی بات یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی تنبیہ دے دی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو ایران پر پھر سے بمباری شروع کی جا سکتی ہے۔ حالانکہ اتنے کم وقت میں کوئی معاہدہ طے پانا مشکل ہی تصور کیا جا رہا ہے، لیکن اگر بات چیت میں کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملتی ہے تو ٹرمپ جنگ بندی کی حد بڑھا سکتے ہیں۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ جنگ بندی کو مزید آگے بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ یعنی اگر طے مدت تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا، تو حالات پھر سے خراب ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ کچھ پاکستانی میڈیا رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران-امریکہ کے درمیان جنگ بندی مزید 2 ہفتوں کے لیے بڑھ سکتی ہے۔
امریکہ-ایران امن مذاکرہ: مجتبیٰ خامنہ ای وفد بھیجنے کو راضی، 22 اپریل کو شروع ہو سکتا ہے بات چیت کا نیا مرحلہ
