مسلم خاتون نے غیر مسلم سے کی شادی — رقعہ بھی شائع، سات پھیرے بھی لئے؛ وی ایچ پی و بجرنگ دل کارکنان بطور مہمان شریک

اتر پردیش کے ضلع غازی پور میں پیش آئی ایک شادی ان دنوں زبردست بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، جہاں ایک مسلم خاتون نے ہندو نوجوان کے ساتھ مکمل ویدک رسومات کے تحت شادی کر لی۔ اس تقریب میں سات پھیرے، سندور دان اور روایتی منتروں کی ادائیگی شامل تھی۔ اس شادی کی خاص بات یہ رہی کہ دونوں خاندانوں کی مکمل رضامندی حاصل تھی، جبکہ مقامی افراد اور مختلف تنظیموں کے کارکنان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

 

یہ واقعہ غازی پور  ضلع کے کریم الدین پور پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع وشمبھَرپور گرام پنچایت سے تعلق رکھتا ہے۔ دلہا چنچل کمار گور اور دلہن انجو (تبدیل شدہ نام)، جو بھرولی کلا کی رہائشی ہیں، لٹھوڈیھ کے ایک فنکشن ہال میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

 

اطلاعات کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے سے تعلقات تھے اور وہ پہلے ہی ساتھ رہ رہے تھے، حتیٰ کہ ان کا ایک بچہ بھی ہے۔ اس شادی کا مقصد ان کے رشتے کو سماجی طور پر تسلیم کروانا تھا، جس کے لیے باقاعدہ خاندانوں کی منظوری سے تقریب منعقد کی گئی۔

 

اس شادی کے لیے باقاعدہ دعوت نامے بھی شائع کیے گئے، جن میں دلہن کا نیا نام “انجو” درج کیا گیا اور والدین کے نام بھی شامل کئے گئے،۔ شادی کے موقع پر منڈپ سجایا گیا جہاں ویدک رسومات کے تحت شادی کی تمام تقریبات انجام دی گئیں۔ مہمانوں نے نو بیاہتا جوڑے کو دعائیں دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

 

تقریب میں گاؤں کے لوگوں کے علاوہ کئی سماجی اور مذہبی تنظیموں کے ارکان بھی شریک ہوئے، جن میں آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان شامل تھے، جس کے باعث یہ شادی مزید موضوعِ گفتگو بن گئی۔ دلہا کے والد ہری شنکر گور کے مطابق دونوں کافی عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ تھے اور کچھ عرصہ قبل گھر چھوڑ کر بھی رہ چکے تھے۔ اب دونوں خاندانوں نے اس رشتے کو قبول کرتے ہوئے باقاعدہ شادی کا اہتمام کیا ہے

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *