
اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، اور اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ہمراہ اہم مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں جاری امریکہ-ایران بات چیت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے، اور یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان ممکنہ براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ تنازع کے حل کی جانب ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایرانی رہنماؤں سے براہِ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، “مجھے ان سے ملاقات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں یہ مذاکرات ہر حال میں کرنے ہوں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس مرحلے پر یہ امید کر رہے ہیں کہ فریقین سنجیدگی سے بات چیت کر رہے ہیں اور کسی قسم کا “کھیل” نہیں کھیلا جا رہا۔
دوسری جانب یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی بدھ کی شام تک محدود ہے، اور اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو اس میں توسیع بے معنی ہوگی۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دن خطے کی صورتحال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
