
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم سے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع سے نکلنے کے لیے ڈپلومیٹک راستہ تلاش کیا جائے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نائب صدر جی۔ڈی۔ ونس اس مقصد کے لیے تیار ہیں کہ وہ ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی قیادت کریں اور ایران کے ساتھ تنازع سے نکلنے کا راستہ صدر ٹرمپ کو دکھائیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس ممکنہ مذاکراتی دور میں امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر بھی شامل ہوسکتے ہیں، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے۔
کچھ ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت نے اپنی تین رکنی ٹیم کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع سے نکلنے کے لیے ڈپلومیٹک حل تلاش کریں۔ ونس، وٹکوف اور کوشنر حال ہی میں اسلام آباد میں ایک طویل 21 گھنٹے کے مذاکرات کے بعد ایرانی حکام اور ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
اگرچہ مذاکرات کے دوسرے دور کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن رپورٹس کے مطابق واشنگٹن داخلی سطح پر نئے اجلاس کے انتظامات پر غور کر رہا ہے، حالانکہ اس کی تاریخ یا واقع ہونے کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔ ایک امریکی اہلکار نے وضاحت کی کہ، “مذاکرات زیر غور ہیں، مگر ابھی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی جائزوں کے مطابق آئندہ چند دنوں میں پاکستان میں نئے سفارتی اقدامات کے امکانات موجود ہیں، تاکہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے۔ اس دوران، مستقبل میں جنگ بندی کا انحصار موجودہ رابطوں اور مذاکرات کے نتائج پر ہے۔
