ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر ایک ایسا عمل آگے بڑھا رہی ہے جس کا اصل مقصد آئینی توازن کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں پارلیمنٹ نے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا قانون منظور کیا تھا اور اس وقت اپوزیشن نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے 2024 کے انتخابات میں ہی نافذ کیا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اس قانون پر اتفاق ہو چکا تھا تو اسے فوری طور پر نافذ کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے اس وقت مردم شماری اور حدبندی کو شرط بنا کر اس عمل کو مؤخر کر دیا اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں مراحل 2029 سے پہلے ممکن نہیں ہیں، جس سے حکومت کی نیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
