پرائیویٹ اسکولوں کی من مانی فیسیں، والدین بے بس تعلیم خواب بنتی جا رہی، متوسط طبقہ شدید پریشان

تحریر صحافی خضر احمد یافعی

(جنرل سیکریٹری تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن ضلع عادل آباد)

 

عادل آباد۔12/اپریل(اردو لیکس) ریاست بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں نے والدین اور سرپرستوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ نئے تعلیمی سال سے قبل ہی داخلوں کے نام پر بھاری رقوم کی وصولی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے عام اور متوسط طبقہ سخت پریشانی میں مبتلا نظر آ رہا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق “معیاری تعلیم”، “ٹیکنو نصاب” اور “اولمپیاڈ کوچنگ” جیسے خوشنما نعروں کے پیچھے نجی تعلیمی ادارے والدین سے ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ کئی اسکولوں میں داخلہ کے نام پر ایڈوانس فیس طلب کی جا رہی ہے، جبکہ اساتذہ کو بھی طلبہ کے داخلوں کے اہداف دے کر دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔

 

والدین کا کہنا ہے کہ صرف داخلہ فیس ہی نہیں بلکہ ٹیوشن، ٹرانسپورٹ، یونیفارم، کتابیں اور دیگر لازمی اخراجات ملا کر مجموعی رقم اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ایک عام آدمی کے لئے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کئی سرپرستوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں قرض لینا پڑ رہا ہے یا دیگر ضروریات کو قربان کر کے بچوں کی فیس ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

 

مزید یہ کہ بیشتر اسکول والدین کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ یونیفارم، کتابیں اور جوتے صرف اسکول سے ہی خریدیں، جہاں قیمتیں بازار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اگرچہ کچھ اسکول کم فیس اور بہتر تعلیم کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ایسے ادارے بہت کم ہیں اور عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں۔

 

ادھر محکمہ تعلیم کے افسران کی خاموشی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیس ریگولیشن کے حوالے سے واضح ہدایات نہ ہونے کا بہانہ بنا کر متعلقہ حکام کارروائی سے گریز کر رہے ہیں، جس کے باعث نجی اسکولوں کی من مانی کھلے عام جاری ہے۔

 

والدین اور سرپرستوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں، شفاف نظام متعارف کروایا جائے اور ایسے قوانین نافذ کئے جائیں جو عام آدمی کو ریلیف فراہم کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو تعلیم صرف امیروں تک محدود ہو کر رہ جائے گی، اور غریب و متوسط طبقے کے بچوں کے خواب ادھورے ہی رہ جائیں گے۔

 

آخر میں واضح کیا جاتا ہے کہ یہ تحریر تنقید برائے تعمیر کے زمرے میں آتی ہے، ان اسکولوں کے لئے جو تعلیم کو تجارت بنا چکے ہیں اور تعلیم کے نام پر موٹی رقم فیس و دیگر اخراجات کی شکل میں وصول کر رہے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ والدین کی کثرت سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر ان کی تکالیف کو اجاگر کرنا ہے، تاکہ متعلقہ حکام اس جانب سنجیدگی سے توجہ دیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *