مذاکرات بغیر معاہدے ختم، دو تین اہم موضوعات پر اختلاف برقرار رہا، بقائی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقایی نے ایران–امریکا مذاکرات کے اختتام پر بتایا کہ یہ دور گزشتہ ایک سال میں ہونے والی بات چیت میں سب سے طویل مذاکراتی نشست تھی۔

انہوں نے کہا کہ گفتگو کا آغاز پاکستانی ثالثی کے ذریعے بالواسطہ پیغام رسانی سے ہوا، جس میں ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز سمیت متعدد موضوعات زیرِ بحث آئے۔

بقایی نے کہا کہ فریقین چند موضوعات پر تفاهم تک پہنچنے میں کامیاب رہے، تاہم دو تین اہم مسائل میں دونوں جانب کے مؤقف میں نمایاں فاصلہ موجود تھا، اور یہی اختلافات مذاکرات کو معاہدے تک پہنچنے سے روکنے کا باعث بنے۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا، کیونکہ یہ قومی مفادات کے تحفظ اور ترجمانی کا اہم ذریعہ ہے، اور ایرانی سفارت کار ہر حالت میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔

بقایی کے مطابق یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ اور حالیہ جنگ بندی کے بعد ایک ایسے ماحول میں ہوئے جو بدگمانی اور بےاعتمادی سے بھرپور تھا، اس لیے کسی ایک نشست میں نتیجہ خیز اتفاق رائے کی توقع بھی نہیں رکھی جاسکتی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعض نئے موضوعات جن میں آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی شامل ہے، اسی دور میں ایجنڈے کا حصہ بنے، جو اپنے اندر اضافی پیچیدگیاں رکھتے ہیں۔

ترجمان نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت، عوام، وزیرِاعظم شہباز شریف، آرمی چیف اور وزیرِ خارجہ کے مشکور ہیں، جنہوں نے مذاکرات میں تعاون اور سہولت کاری کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ایران کو یقین ہے کہ پاکستان اور خطے کے دیگر دوست ممالک کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

بقایی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران وزارت خارجہ دیگر اداروں اور ملک کے محافظوں کے ساتھ مل کر قومی سلامتی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر طرح کے تعاون اور آمادگی کے ساتھ فعال رہے گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *