
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مذاکراتی وفد “میناب 168” کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ دوبارہ ایران کے عزم کو آزمانے کی غلطی کرے تو سخت اور دندان شکن جواب ملے گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان سے واپسی پر ایرانی وفد “میناب 168” کے سربراہ محمدباقر قالیباف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی حمایت اور ان کی دعاؤں نے مذاکراتی ٹیم کی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ عوام کی میدان میں بھرپور موجودگی نے نہ صرف ایران کے مؤقف کو تقویت دی بلکہ فریق مقابل کو بھی ایرانی انقلاب کے بارے میں بہتر شناخت فراہم کی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات شدید اور چیلنج سے بھرپور تھے، تاہم ایرانی ٹیم نے جامع نقطہ نظر، پیشہ ورانہ مہارت اور ٹیم ورک کی بدولت مثبت پیش رفت ممکن بنائی۔ ایران نے ابتدا ہی سے امریکہ پر عدم اعتماد کا مؤقف رکھا، کیونکہ گزشتہ برسوں میں متعدد مواقع پر مذاکرات کے درمیان ایران کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے زور دیا کہ اعتماد بحال کرنا ممکن ضرور ہے لیکن یہ ذمہ داری امریکہ پر ہے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرے۔ حالیہ دور میں اس حوالے سے فریق مقابل کی عملی سنجیدگی کم نظر آئی۔
قالیباف نے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے بیس گھنٹے سے زائد مسلسل گفتگو میں بھرپور پیشہ ورانہ کارکردگی دکھائی۔ دشمن کی نفسیاتی جنگ کو ناکام بنایا اور ایران کے مؤقف کو درست انداز میں دنیا تک پہنچایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بارے میں قالیباف نے کہا کہ یہ بیانات ایرانی عوام کے عزم پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔ ایران نے گزشتہ 47 برسوں میں ہر میدان میں ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ میں فیصلہ تبدیل نہیں کرتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ خطے میں کشیدگی سے نکلنے کا راستہ چاہتا ہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرے۔ یہ عمل مشکل ضرور ہے مگر راستہ یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اعلیٰ تہذیب کی حامل ہے اور ہر صورت میں باوقار انداز اختیار کرتی ہے۔ اگر ایران کو جنگ کے ذریعے آزمایا گیا تو مناسب جواب دیا جائے گا، لیکن اگر بات چیت منطقی بنیاد پر ہو تو ایران بھی منطق سے جواب دے گا۔
