
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سابق امریکی سفارتکار آرون ڈیوڈ ملر کے مطابق ایران مذاکرات میں برتری رکھتا ہے اور فوری معاہدے کی جلد بازی میں نہیں، جبکہ امریکی سیاسی رہنما بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایران کی پوزیشن مضبوط ہے۔
ڈیوڈ ملر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو امریکہ کے مقابلے میں مذاکرات میں زیادہ برتری حاصل ہے۔ اسی لئے ایرانی حکام کسی فوری معاہدے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہیں۔
ملر کے اس بیان سے قبل امریکی سینیٹر اینڈی کیم نے بھی کہا تھا کہ کیا جی ڈی ونس واقعی توقع رکھتے تھے کہ وہ برسوں کے ایرانی تنازعات کو ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں؟ ایران اعلی سطح پر مذاکرات میں شریک ہوا، جبکہ ونس ممکنہ طور پر پیچھے ہٹنے کی پوزیشن میں نظر آئے۔
کیم نے مزید کہا کہ امریکہ کے فوجی خطرے میں ہیں اور شہری جو بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہیں، سنجیدہ مذاکرات ان کی ضرورت ہیں، اور اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی حکمت عملی میں مستحکم اور واشنگٹن پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
