مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ موجودہ داخلی حالات اور قومی سلامتی کے پیش نظر انہوں نے اقوام متحدہ اور امریکہ کا دورہ مؤخر کر کے بیروت میں رہتے ہوئے حکومتی امور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ لبنان کی موجودہ صورتحال اور عوام کی سلامتی و قومی اتحاد کے تحفظ کی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کے بجائے بیروت میں رہ کر حکومتی امور کی نگرانی جاری رکھیں گے۔
اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی پیش رفت لبنان میں جنگ بندی سے بھی منسلک سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق لبنانی حکومت ابتدا میں اسرائیل کے ساتھ متوازی مذاکرات کا راستہ کھول کر مزاحمتی محاذ کے مستقبل کو الگ کرنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے سیاسی منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتی تھی۔
تاہم ایران کے اس مؤقف کہ مزاحمتی محاذ کی تقدیر ایک ہے اور میدان میں حزب اللہ کی مزاحمت کے باعث اس متوازی حکمت عملی کو مؤثر طور پر آگے بڑھانا ممکن نہیں رہا۔ اس صورتحال میں میدانی اور سفارتی حقائق لبنان کی حکومت اور اسرائیلی قیادت پر اثر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
