
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو چہاردہم پر شدید تنقید کی ہے اور انہیں جرائم سے نمٹنے اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں کمزور قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق پوپ خوف کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن اس خوف کا ذکر نہیں کرتے جو کیتھولک چرچ اور دیگر مسیحی اداروں نے کرونا وبا کے دوران محسوس کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں وہ وقت یاد ہے جب مذہبی تقریبات محدود کر دی گئی تھیں اور پادریوں کو قرنطینہ کے قواعد کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پوپ کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کے بھائی لوئی کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے پوپ لیو چہاردہم پر امریکی پالیسی سے متعلق ان کے بیانات پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ ایک پوپ کو امریکی صدر پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر وہ کام کر رہا ہو جس کے لیے عوام نے اسے منتخب کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پوپ کو شکرگزار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے منصب پر فائز ہیں، کیونکہ ان کے بقول یہ سب امریکہ سے تعلق اور امریکی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بدولت ممکن ہوا۔ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر میں وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتا تو ليو ویٹيکن میں نہ ہوتا۔
ادھر پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کے روز لبنانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی مدد کرنا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔
ویٹیکن کے سینٹ پیٹر اسکوائر میں خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ ان غم، خوف اور امید کے دنوں میں، میں اپنے عزیز لبنانی بھائیوں اور بہنوں کے پہلے سے زیادہ قریب ہوں۔
