عالمی یومِ صحت: جراحی کے بانی Abu al-Qasim al-Zahrawi کی ناقابلِ فراموش خدمات

ڈاکٹر تبریز حسین تاج۔حیدرآباد

ہر سال دنیا بھر میں World Health Day کے موقع پر صحت کے عالمی مسائل، جدید طبی سہولیات اور انسانی فلاح کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ مگر یہ دن ہمیں اس درخشاں علمی ورثے کی یاد بھی دلاتا ہے جس نے موجودہ طب کی بنیاد رکھی۔ انہی عظیم معماروں میں ایک نمایاں نام ابو القاسم الزہراوی کا ہے، جنہیں تاریخ طب میں جدید جراحی کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔اندلس سے اُبھرا ہوا ایک عظیم طبیب جس نے سارے عالم میں اپنے فن کالوہا منوالیا۔

 

دسویں صدی عیسوی میں اندلس علمی و تہذیبی ترقی کا مرکز تھا، اور اسی زرخیز ماحول میں الزہراوی نے آنکھ کھولی۔ ان کی پیدائش قرطبہ کے قریب الزہراء میں ہوئی، اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی خطے میں گزارا۔ قرطبہ اس وقت یورپ کے بڑے علمی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں علمِ طب سمیت مختلف علوم پر گہرا کام ہو رہا تھا۔الزہراوی نے نہ صرف طب کی تعلیم حاصل کی بلکہ تدریس اور عملی علاج کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت ایک ایسے معالج کی تھی جو تحقیق، مشاہدے اور تجربے کو یکجا کر کے علم کو آگے بڑھاتا ہے۔

 

جراحی کو ایک باوقار علم بنانے کا سفرجو کامیاب ثابت ہوا۔ تاہم اس دور میں جراحی کو طب کا کم تر شعبہ سمجھا جاتا تھا، مگر الزہراوی نے اس تصور کو بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے جراحی کو نہ صرف ایک باقاعدہ سائنسی شعبہ بنایا بلکہ اسے طب کا اعلیٰ ترین درجہ قرار دیا۔انہوں نے سینکڑوں نئے جراحی آلات متعارف کروائے اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مخصوص تکنیکیں وضع کیں۔ اندرونی ٹانکوں کے لیے “کیٹ گٹ” کا استعمال، زخموں کی صفائی کے اصول، اور پیچیدہ سرجریوں کے لیے جدید طریقۂ کار ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کے تیار کردہ کئی آلات آج بھی جدید سرجری میں استعمال ہو رہے ہیں۔

 

“التصریف” — ایک ایسا شاہکار جس نے دنیا بدل دی ہے۔الزہراوی کی شہرۂ آفاق تصنیف Kitab al-Tasrif طب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ تیس جلدوں پر مشتمل یہ انسائیکلوپیڈیا دراصل ان کے پچاس سالہ تجربات کا نچوڑ ہے۔اس کتاب میں جراحی، ادویات، امراض، زچہ و بچہ، آنکھوں کی بیماریوں اور دندان سازی سمیت طب کے تقریباً تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کا جراحی پر مبنی آخری حصہ خاص طور پر اتنا اہم ثابت ہوا کہ اس کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہونے کے بعد یورپ کی بڑی جامعات میں پانچ سو سال تک اسے بنیادی نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا رہا۔طبی دنیا میں انقلابی انکشافات کی اگر بات کریں تو الزہراوی نے کئی ایسی بیماریوں اور طبی مسائل کی نشاندہی کی جن پر اس سے پہلے توجہ نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے ہیموفیلیا جیسی بیماری کے موروثی ہونے کا تصور پیش کیا، جو جدید جینیاتی تحقیق کی بنیادوں میں شامل ہے۔

 

اسی طرح انہوں نے رحم سے باہر ہونے والے حمل (ایبڈومینل پریگننسی) کی وضاحت کی، جو اُس دور میں تقریباً ناقابلِ علاج اور جان لیوا سمجھا جاتا تھا۔ فالج کی وجوہات، دماغی بیماریوں، اور بچوں میں دماغی پانی (Hydrocephalus) جیسے مسائل پر بھی ان کی تحقیق نہایت اہم ہے۔مہارت، جرات اور انسان دوستی کا بھی ثبوت پیش کیا۔الزہراوی کی عملی زندگی کا ایک واقعہ ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جب انہوں نے ایک ایسی مریضہ کا علاج کیا جس کی گردن بری طرح زخمی ہو چکی تھی۔ انہوں نے نہایت احتیاط سے زخم کو سی کر اسے صحت یاب کیا، جو اس دور کے لحاظ سے ایک غیر معمولی کارنامہ تھا۔وہ نہ صرف ایک ماہر طبیب تھے بلکہ ایک حساس انسان بھی تھے۔ اپنے شاگردوں کو “میرے بچے” کہہ کر مخاطب کرنا اور مریضوں کے ساتھ مساوی سلوک کی تلقین کرنا ان کے اعلیٰ اخلاقی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

 

دندان سازی اور حسنِ صحت کاذکر کریں توالزہراوی نے دندان سازی کے شعبے میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے دانتوں کو مضبوط کرنے کے لیے سونے اور چاندی کے تار استعمال کیے، دانتوں کی صفائی کے آلات تیار کیے اور مسوڑھوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے اصول بیان کیے۔انہوں نے “میڈیسن آف بیوٹی” کے تصور کو بھی متعارف کروایا، جس میں صفائی، خوشبو اور ظاہری حسن کو صحت کا حصہ قرار دیا گیا۔جب الزہراوی کی تصنیفات یورپ پہنچیں تو انہوں نے وہاں کے طبی نظام کو یکسر بدل دیا۔ ان کے سائنسی اور منظم طریقۂ کار نے قدیم یونانی طبیب Galen کے اثرات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔فرانسیسی سرجن Guy de Chauliac نے اپنی تحریروں میں الزہراوی کا بارہا حوالہ دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی علمی حیثیت کس قدر مستحکم تھی۔

 

علمِ تشریح پر زور دیتے ہوئے الزہراوی اس بات پر سختی سے یقین رکھتے تھے کہ ایک سرجن کے لیے جسمانی ساخت (Anatomy) کا مکمل علم ضروری ہے۔ ان کے نزدیک بغیر علمِ تشریح کے سرجری کرنا مریض کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جب انسان کا عمل اور تخلیق ضرورت بنتی ہے تو دنیا اُسے قیامت تک یاد رکھتی ہےآج بھی اسپین کے شہر قرطبہ میں ایک سڑک “Calle Albucasis” ان کے نام سے منسوب ہے، جو ان کی عالمی سطح پر پہچان اور خدمات کا اعتراف ہے۔ ان کی علمی میراث نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ پوری انسانیت کے لیے باعثِ فخر ہے۔

 

ایک پیغام جو آج بھی زندہ ہے وہ یہ ہے کہ عالمی یومِ صحت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جدید طبی سہولیات اچانک وجود میں نہیں آئیں بلکہ یہ صدیوں کی تحقیق، محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔ مسلم ماہر صحت ابو القاسم الزہراوی ان عظیم شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے علم اور عمل سے انسانیت کی خدمت کی ایک لازوال مثال قائم کی۔ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا صدیوں پہلے تھا:

 

علم، مشاہدہ اور انسانیت یہی ایک کامیاب معالج کی اصل پہچان ہے۔

۔۔۔۔۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *