تحریر صحافی خضر احمد یافعی عادل آبادی
عادل آباد، 6 / اپریل (اردو لیکس)انتخابات کے دوران ووٹروں کو لبھانے اور اپنی جانب راغب کرنے کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کروڑوں اور لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ ناراض قائدین اور ووٹرس کو منانے سے لے کر انتخابی مہم کے آخری دن تک ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مقامات پر شراب کی فراہمی اور دیگر ذرائع سے بھی ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔
انتخابی مہم کے دوران گھروں اور بازاروں میں ریلیوں کے لئے سینکڑوں مرد و خواتین کو روزانہ اجرت دے کر شامل کیا جاتا ہے، جس پر بھاری رقم خرچ ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض مسلم اقلیتی قائدین کو بھی ووٹرس کو متاثر کرنے کے لئے مالی وسائل فراہم کئے جاتے ہیں۔
تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی مسلم۔اقلیتی قائدین اردو صحافیوں اور اردو میڈیا کو، جن کا وہ انتخابی مہم کے دوران بھرپور استعمال کرتے ہیں، مالی طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اخبارات اور چینلز کو اشتہارات یا پیڈ نیوز کے ذریعے سہارا دیا جائے اور مقامی صحافیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں مناسب مالی تعاون فراہم کیا جائے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انتخابات کے دوران جو کچھ ہوتا ہے، اس سے عوام بخوبی واقف ہیں۔ ایسے میں اردو صحافیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ متحد ہوں اور اپنے پیشے کو وقتی مفادات کے لئے استعمال کرنے والے قائدین کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں۔
کافی عرصہ سے تلنگانہ کے صحافی حضرات مکانات کے لئے اراضی، بس پاس میں مکمل رعایت، ٹرین سفر میں رعایت، ٹول پلازہ پر سہولت اور مؤثر ہیلتھ کارڈ جیسی بنیادی سہولیات کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، مگر اب تک انہیں محض وعدوں تک محدود رکھا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کو سرکاری ملازمین کی طرز پر خانگی اسپتالوں میں طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور دیگر رعایتیں بحال کی جائیں۔
صحافتی تنظیمیں اگرچہ اپنے طور پر جدوجہد کر رہی ہیں، جو قابل ستائش ہے، تاہم انہیں چاہیے کہ منظم، مضبوط اور مسلسل تحریک چلائیں۔ صرف یادداشت پیش کرنا کافی نہیں، بلکہ مسائل کے حل تک مستقل جدوجہد ضروری ہے۔
اسی طرح مسلم قائدین کو بھی چاہیے کہ وہ انتخابات کے دوران اردو صحافیوں کا مالی لحاظ سے خیال رکھیں اور اگر وہ کسی بااثر عہدے پر فائز ہیں تو اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے حکومت سے صحافیوں کے مسائل حل کروائیں۔ مزید برآں، تلنگانہ اردو اکیڈمی کے ذریعے اضلاع کے اردو صحافیوں کے لئے ماہانہ مالی امداد یا اعزازیہ کی فراہمی جیسے اقدامات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
آخر میں یہ بات واضح رہے کہ یہ ایک ذاتی اظہارِ خیال ہے، اور جمہوری ملک میں ہر فرد کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس سے اتفاق یا اختلاف ہر شخص کا اپنا حق ہے، تاہم تعمیری مکالمہ ہی بہتری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
