مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور حزب اللہ کے خلاف متعدد محاذوں پر مسلسل ناکامیوں کے بعد نتن یاہو حکومت پر اسرائیل کے اندرونی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔
سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے حکومت اور فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کو کسی بھی محاذ پر کامیابی نہیں مل رہی ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی معا کے مطابق، سابق وزیر اعظم کا بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے بڑھتے ہوئے افرادی قوت کے بحران کے درمیان حکومت کو خبردار کیا کہ فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔
چینل 12 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نفتالی بینٹ نے کہا کہ یہاں ایک سیاسی طبقہ موجود ہے جو اسرائیلی فوج کی کامیابی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ موجودہ قیادت کو معلوم نہیں کہ کیسے جیتنا ہے۔ ہم نہ غزہ میں حماس کے خلاف جنگ میں، نہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اور نہ ہی ایران کے مقابلے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی فوج کو درپیش افرادی قوت کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ فوج کو تقریبا 20 ہزار اضافی فوجیوں کی ضرورت ہے۔
بنت کے مطابق اس وقت تقریباً ایک لاکھ انتہا پسند آرتھوڈوکس (حریدی) نوجوان ایسے ہیں جو فوجی خدمت کی عمر میں ہیں اور جسمانی طور پر بھی اس قابل ہیں۔ اگر ان میں سے صرف 20 فیصد کو بھی فوج میں شامل کرلیا جائے تو افرادی قوت کا بحران بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔ اسرائیل میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جسے انہوں نے حریدی حکومت قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حریدی طبقے کو فوج، معیشت اور تعلیمی نظام میں مکمل طور پر شامل کیا جائے اور سرکاری مراعات کو ملازمت اور فوجی خدمت سے مشروط کیا جائے۔
