
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی اتحاد بنانے کی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب واشنگٹن کے متعدد قریبی اتحادی ممالک نے خلیج فارس میں ایران کے مقابلے میں فوجی تعاون کی درخواست کو واضح طور پر مسترد کردیا۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد واشنگٹن نے ایک کثیرالجہتی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کی تاکہ خطے میں فوجی، بحری اور فضائی سطح پر کارروائیوں میں مختلف ممالک کو شامل کیا جاسکے۔ تاہم امریکہ کے روایتی اتحادیوں اور خطے کے کئی ممالک نے اس منصوبے میں شرکت سے انکار کر دیا۔ برطانیہ، جرمنی، اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے مغربی اور ایشیائی اتحادیوں نے بھی فوجی تعاون سے گریز کیا۔
امریکی متلون مزاجی اتحاد کی تشکیل میں اہم رکاوٹ
تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے اس اجتماعی ردعمل کے پیچھے کئی اسٹریٹجک عوامل کارفرما ہیں۔ ایک اہم وجہ امریکہ کی سابقہ پالیسیوں پر عدم اعتماد کو قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر 2018 میں امریکہ کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ انخلا نے واشنگٹن کے سفارتی وعدوں پر سوالات کھڑے کیے تھے۔ اسی پس منظر میں کئی اتحادی ممالک نے غیر یقینی فوجی مہم میں شامل ہونے سے احتراز کیا۔
علاقائی سطح پر بھی ممالک نے اپنے معاشی اور سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنائی۔ خلیج کے کئی ممالک کی معیشت توانائی کی برآمدات اور علاقائی تجارت پر منحصر ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جنگی صورتحال ان کے لیے سنگین معاشی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح بعض علاقائی حکومتوں نے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور ممکنہ جنگی پھیلاؤ کے خدشات کو بھی مدنظر رکھا۔ اس تناظر میں کئی ممالک نے غیر جانبدار یا محتاط پالیسی اختیار کرنا زیادہ مناسب سمجھا تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی حقیقت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ ماضی میں کئی ممالک امریکی دباؤ یا سلامتی کے سہارے پر فیصلے کرتے تھے، تاہم اب وہ اپنے قومی مفادات کے مطابق زیادہ خودمختار فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف اتحاد قائم کرنے میں ناکامی امریکہ کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج تصور کی جا رہی ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں یکطرفہ اتحاد سازی کی حکمت عملی پہلے جیسی مؤثر نہیں رہی۔
علاقائی نظم کی ازسر نو ترتیب اور نئے بلاکوں کی تشکیل
ایران کے خلاف امریکہ کے جارحانہ اتحاد کی ناکامی صرف ایک عام واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ مشرق وسطی میں علاقائی نظم کی ازسر نو ترتیب کے ایک گہرے عمل کا آغاز ثابت ہوا ہے، جس میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر ایران اور محور مزاحمت کے حق میں تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران کی سرزمین پر فوجی جارحیت کے آغاز اور مختلف ممالک کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں شرکت سے انکار کے بعد تہران نہ صرف ایک سکیورٹی طاقت کے طور پر بلکہ خطے کے معاملات میں ایک مؤثر اور ناقابلِ نظرانداز کھلاڑی کے طور پر بھی مضبوطی سے ابھرا ہے۔ طاقت کے اس نئے توازن کی ایک وجہ خطے کے ممالک کی جانب سے ایران کی دفاعی طاقت کا ادراک اور یہ حقیقت تسلیم کرنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی اقدام کے وسیع اور غیرقابلِ قابو نتائج ہوسکتے ہیں۔
اسی تناظر میں مزاحمتی بلاک، جو اس سے قبل امریکی اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کے زیرِ اثر تھا، اب ایسی پوزیشن میں آگیا ہے کہ وہ ایران کی دفاعی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے مشرق وسطی کی سکیورٹی صورتحال کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرسکے۔ خطے کے مختلف ممالک میں سرگرم گروہوں نے بھی ایران کی سفارتی اور سکیورٹی حمایت کے سہارے ایران مخالف اتحادوں سے فاصلہ اختیار کیا ہے اور اس کے بجائے تہران کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔ مزاحمتی بلاک کی یہ مضبوطی عالمی طاقتوں کے لیے ایک اسٹریٹجک پیغام رکھتی ہے کہ ایران نہ صرف فوجی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ سیاسی اور سکیورٹی میدان میں بھی اس کی علاقائی صلاحیتیں وسیع ہیں۔
مستقبل کے ممکنہ منظرنامے اور اسٹریٹجک امکانات
ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ جارحانہ اتحاد کے مکمل طور پر بکھر جانے کے بعد فوجی کشیدگی کے مستقبل کو تین بنیادی منظرناموں کے تحت دیکھا جا رہا ہے: محدود پیمانے پر تنازع کا پھیلاؤ، کشیدگی میں بتدریج کمی، یا دو طرفہ ڈیٹرنس کے ساتھ موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا۔
پہلے منظرنامے کے تحت واشنگٹن اتحادیوں کی عدم حمایت کے باوجود اپنی مخصوص فوجی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر کارروائیوں کو وسعت دینے کی کوشش کرسکتا ہے۔ تاہم انسانی اور معاشی اخراجات کے پیش نظر اس امکان کو امریکی حکومت کے لیے زیادہ ترجیحی راستہ نہیں سمجھا جا رہا۔
دوسرا منظرنامہ، جسے نسبتاً زیادہ ممکن سمجھا جا رہا ہے، کشیدگی میں بتدریج کمی کا ہے۔ اس کے تحت غیر مستقیم سفارتی چینلز اور علاقائی مذاکرات کے ذریعے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے مؤثر طور پر نافذ نہ ہونے اور خطے کے ممالک کی جانب سے استحکام کی خواہش اس راستے کو تقویت دے سکتی ہے۔
تیسرا منظرنامہ بھی خاصا ممکن سمجھا جاتا ہے جس میں دو طرفہ ڈیٹرنس کے تحت موجودہ صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ اس صورت میں ایران اپنی فوجی اور سفارتی صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے اور امریکہ خطے کی نئی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایک طرح کی نسبتاً باہمی احتیاط یا محدود ردعمل کی کیفیت میں رہ سکتے ہیں۔
اس پورے عمل میں ایران کی دفاعی صلاحیتیں مستقبل کے منظرناموں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ میزائل اور ڈرون طاقت، علاقائی اثر و رسوخ اور اتحادی نیٹ ورک ایران کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کی قیمت مخالفین کے لیے نمایاں طور پر بڑھاسکے۔ یہ قوت صرف فوجی دائرے تک محدود نہیں بلکہ معاشی اور سفارتی پہلوؤں سے بھی مضبوط کی گئی ہے، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ دباؤ بھی شامل ہے۔
