ایف-35 پر حملہ؛ جدید ایرانی دفاعی میزائل نے امریکی فضائی برتری کے دعوے کو خاک میں ملادیا

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک، گزشتہ روز سپاہ پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی نظام نے ایک جدید امریکی ایف‑35 اسٹیلتھ جنگی طیارے کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایف‑35 ایک جنگی مشن پر تھا اور فضائی دفاعی نظام کی زد میں آگیا، جس کے بعد پائلٹ کو طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ امریکی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مختلف ذرائع اس واقعے کی تصدیق کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایف‑35 دنیا کے جدید ترین اسٹیلتھ جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے، اسی لیے اس سے متعلق کسی بھی واقعے کو عالمی دفاعی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ایسے واقعات کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کے خطے کی عسکری حکمت عملی، فضائی جنگ اور دفاعی نظاموں پر دور رس اثرات پڑ سکتے ہیں۔

ایف‑35 دراصل امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ایک جدید جنگی طیارہ ہے۔ اس منصوبے کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا تھا جبکہ اس کی پہلی پرواز 2006 میں ہوئی۔ یہ ایک سنگل انجن، سپرسونک اور کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ ہے جو مختلف قسم کے جنگی مشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے پرانے جنگی طیاروں جیسے ایف‑16، اے‑10، ایف/اے‑18 اور ہیرئیر کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا۔ اس کی تین بنیادی اقسام ہیں: ایف‑35A، ایف‑35B اور ایف‑35C۔ مارچ 2026 تک دنیا بھر میں اس کے 1310 سے زیادہ طیارے فراہم کیے جاچکے ہیں اور تقریباً 10 اتحادی ممالک، جن میں اسرائیل بھی شامل ہے، اسے اپنے فضائی بیڑوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

دفاعی شاہکار یا مہنگا عسکری منصوبہ

تاہم ایف‑35 کے بارے میں سب سے زیادہ بحث اس کی قیمت کو لے کر ہوتی ہے۔ ایف‑35A کی فیکٹری سے نکلنے کی قیمت (فلائی اوے کاسٹ) تقریباً 82.5 ملین ڈالر ہے۔ ایف‑35B کی قیمت تقریباً 109 ملین ڈالر جبکہ ایف‑35C کی قیمت تقریباً 102 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نصب F135 انجن کی قیمت الگ سے تقریباً 20.4 ملین ڈالر ہے۔ لیکن جب کسی طیارے کو مکمل جنگی تیاری کے ساتھ استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے—جس میں تمام آلات، پائلٹوں کی تربیت، تکنیکی معاونت اور متعلقہ بنیادی ڈھانچہ شامل ہوتا ہے—تو اس کی حقیقی لاگت تقریباً 95 سے 120 ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

اس پروگرام کی مجموعی لاگت اس کی پوری متوقع مدت (2088 تک) میں 1.7 ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق اگر مہنگائی اور طویل مدتی دیکھ بھال کے اخراجات شامل کیے جائیں تو یہ رقم 2.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ایف‑35 پروگرام کو انسانی تاریخ کا سب سے مہنگا عسکری منصوبہ کہا جاتا ہے۔

صرف ابتدائی تحقیق، ترقی اور خریداری کے مرحلے پر ہی تقریباً 400 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر طیارے کی سالانہ دیکھ بھال پر 7 ملین ڈالر سے زیادہ لاگت آتی ہے۔ کئی ممالک کے لیے یہی بڑھتے ہوئے اخراجات ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر سوئٹزرلینڈ نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اپنے 30 طیاروں کے آرڈر میں کمی کر دی، جبکہ کینیڈا کے ایف‑35 پروگرام کی لاگت 19 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 27.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

پینٹاگون نے کئی بار یہ یقین دہانی کرائی کہ وقت کے ساتھ اس طیارے کی قیمت کم ہو جائے گی، لیکن مہنگائی، خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور منصوبے میں تقریباً دس سال کی تاخیر کے باعث اخراجات مزید بڑھتے چلے گئے۔ اسی پس منظر میں بعض تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی نسبتاً کم قیمت کے کسی میزائل نے اس جدید اور مہنگے طیارے کو چیلنج کیا ہے تو اس کے مستقبل اور جدید فضائی جنگ کی حکمت عملی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایف-35 کی امتیازی خصوصیات

ایف-35 کو پانچویں نسل کا جنگی طیارہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں کئی جدید ٹیکنالوجیوں کا منفرد امتزاج موجود ہے۔

1. اسٹیلتھ (Stealth):

اس کی خاص ساخت (ہم آہنگ کنارے، خمیدہ سطحیں)، ریڈار جذب کرنے والے مواد (RAM) اور ہتھیاروں، ایندھن اور سینسرز کو طیارے کے اندر رکھنے کے باعث اس کی ریڈار شناخت ایک گولف گیند کے برابر رہ جاتی ہے۔ یعنی یہ مکمل طور پر غائب نہیں ہوتا، مگر اسے دریافت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ یہ دشمن کی فضائی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کرے اور ریڈار اسے نہ دیکھ سکیں۔

2. سینسر فیوژن اور 360 درجے کی صورتحال سے آگاہی:

DAS (Distributed Aperture System) نامی نظام چھ انفراریڈ کیمروں کے ذریعے پائلٹ کو مکمل فضائی منظر فراہم کرتا ہے، جسے بعض ماہرین خدا کی آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ AESA رڈار APG‑81، EOTS (Electro‑Optical Targeting System) اور جدید ڈیٹا لنک مختلف ذرائع—فضا، زمین اور سیٹلائٹس—سے معلومات کو یکجا کرتے ہیں۔ اس طرح پائلٹ صرف اپنے طیارے کی نہیں بلکہ پورے میدانِ جنگ کی صورتحال دیکھ سکتا ہے اور یہ معلومات دیگر پلیٹ فارمز تک بھی پہنچا سکتا ہے، اسی لیے اسے کبھی کبھار آسمان کا کوارٹر بیک بھی کہا جاتا ہے۔

3. کثیرالمقاصد صلاحیت:

ایف-35 سٹیلتھ طیارہ فضاء سے فضاء، فضاء سے زمین حملوں، الیکٹرانک جنگ، نگرانی اور حتیٰ کہ سائبر حملوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ JASSM اور LRASM جیسے میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، 9g تک موڑ کا دباؤ برداشت کرسکتا ہے، طویل فاصلے تک پرواز کرسکتا ہے اور مختلف بلندیوں پر مؤثر انداز میں کام کرتا ہے۔

4. نیٹ ورک پر مبنی جنگی نظام:

ایف-35 مستقبل کی امریکی جنگی حکمتِ عملی میں ایک مرکزی کردار رکھتا ہے۔ یہ F‑22، بمبار طیاروں، جنگی جہازوں اور ڈرونز کے ساتھ ڈیٹا کا تبادلہ کر کے ایک مربوط جنگی نیٹ ورک تشکیل دیتا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا تھا کہ یہ جنگی طیارہ آئندہ پچاس سال تک فضائی برتری کو یقینی بنائے گا۔

ایف-35 کو نشانہ بنانے کی اسٹریٹجک اہمیت

اس واقعے کو مختلف پہلوؤں سے اہم قرار دیا جا رہا ہے:

نفسیاتی اور تشہیری پہلو:

ایف-35 سٹیلتھ طیارہ مغربی ٹیکنالوجی کی برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسے میزائل نصرالله سے نشانہ بنانا ایک علامتی پیغام کے طور پر پیش کیا جارہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی بھی ہمیشہ محفوظ نہیں۔ اس واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی اور دفاعی توازن پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

فنی پہلو:

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جدید دفاعی نظام—ریڈار، گائیڈڈ میزائل اور ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کے امتزاج کے ساتھ—اسٹیلتھ طیاروں کی شناخت میں نئی صلاحیتیں حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے دشمن کی فضائی حدود میں بغیر دریافت ہوئے داخل ہونے کی حکمت عملی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

اقتصادی پہلو:

ایف-35 نہ صرف ایک مہنگا جنگی طیارہ ہے بلکہ اس سے جڑی تربیت، سپلائی چین اور عالمی دفاعی معاہدے بھی اہم ہیں۔ اس لیے کسی بھی نقصان یا تکنیکی چیلنج کی خبر عالمی خریدار ممالک کے فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

جنگی پہلو:

علاقائی تنازعات میں فضائی اڈوں اور سپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا آپریشنل صلاحیت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے واقعات یا دعوے عسکری ماہرین کے لیے خاص دلچسپی کا باعث بنتے ہیں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بحث کو تیز کر دیتے ہیں۔

حاصل سخن

ایف-35 کو اس طرح پیش کیا جاتا تھا جیسے وہ غیر متوازن جنگوں کا خاتمہ کر دے گا، مگر اب دعوی کیا جا رہا ہے کہ وہ خود ایک غیر متوازن جنگ کا نشانہ بن گیا۔ بعض بیانات کے مطابق امریکہ نے تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر خرچ کر کے ایسا جنگی طیارہ تیار کیا جو نصرالله نامی میزائل کے مقابلے میں کمزور ثابت ہوا۔ اس واقعے کو بعض حلقے صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ادھر امریکی قیادت اپنی کامیابی کے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن میدان جنگ کی اطلاعات مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایف-35 جو فضاؤں پر مکمل برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب ہنگامی جنگی رپورٹس کا حصہ بن چکا ہے۔

کیا یہ واقعی امریکی فضائی بالادستی کے خاتمے کی ابتدا ہے؟ اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ تاہم اس واقعے کو بعض مبصرین اس پیغام کے طور پر دیکھتے ہیں کہ صرف ٹیکنالوجی ہی کافی نہیں، اس کے ساتھ حکمت عملی اور عزم بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *