
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ایک اعلی سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران جنگ کے خاتمے کا وقت خود طے کرے گا اور اس معاملے میں امریکہ یا ڈونلڈ ٹرمپ کو فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پریس ٹی وی کے مطابق مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ نے مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے ایران سے مذاکرات کی درخواست کی ہے اور بعض تجاویز بھی پیش کی ہیں، تاہم یہ تجاویز زیادہ مطالبات پر مبنی ہیں اور میدان جنگ میں امریکہ کی ناکامی کی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایران نے تجاویز کا اسی طرح جائزہ لیا ہے جیسے اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات کے دوران کیا گیا تھا۔ یہ تجاویز کشیدگی بڑھانے کے لیے ایک فریب ہیں کیونکہ ماضی میں بھی امریکہ نے بظاہر مذاکرات کی بات کی لیکن بعد میں ایران پر فوجی حملہ کیا گیا۔
ایران نے دوست ثالث ملک کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی ایک تجویز مسترد کر دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے اور دشمن کو سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ دفاع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک درج ذیل شرائط پوری نہیں ہوجاتیں۔
دشمن کی جارحیت اور ٹارگٹڈ حملوں کو ختم کیا جائے
ایسے حالات عیاں ہوجائیں کہ مزید جنگ کا کوئی موقع نہیں آئے گا
جنگی نقصانات اور ہرجانے کی ادائیگی کی واضح ضمانت دی جائے
پورے خطے میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور اس نبرد میں شریک تمام مزاحمتی گروہوں کے حوالے سے بھی جنگ کے اختتام کو عملی طور پر نافذ کیا جائے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت اس کا فطری اور قانونی حق ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے نیز مخالف فریق کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی ضمانت فراہم کی جائے۔
یہ شرائط ان مطالبات کے علاوہ ہیں جو ایران نے جنیوا میں مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران پیش کیے تھے، جو کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے چند روز پہلے منعقد ہوا تھا۔
ایران نے ان تمام ثالثوں کو بھی آگاہ کردیا ہے جو نیک نیتی کے ساتھ اس معاملے میں کردار ادا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی اسی وقت ممکن ہوگی جب تہران کی شرائط قبول کی جائیں، اس سے پہلے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ہم اپنی دفاعی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک مذکورہ شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، اور ایران جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب وہ خود اس کا فیصلہ کرے گا، نہ کہ جب ٹرمپ اس کے خاتمے کا وقت طے کریں۔
