ایران کے ساتھ بغیر حکمت عملی کی جنگ امریکہ کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہے، امریکی سینیٹر

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی چھبیسویں دن میں داخل ہوگئی ہے۔ اس دوران ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات پر مسلسل اور مختلف نوعیت کے حملے جاری ہیں، جبکہ امریکا کے اندر بھی جنگی پالیسیوں پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

امریکی سینیٹر کرس مرفی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ تباہ کن ثابت ہو رہی ہے اور اسے شروع کرتے وقت کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

مرفی کے مطابق یہ جنگ چار ہفتوں سے جاری ہے جبکہ آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے، جو عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سینیٹر مرفی نے امریکی سینیٹ میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لازمی ہونی چاہیے۔ تاہم یہ قرارداد سینیٹ میں منظور نہ ہوسکی۔

اس قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ مشترکہ جنگ میں کانگریس کی پیشگی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی نہ کرے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *