مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خلیج فارس اور اس کے اسٹریٹجک جزائر کو ایران کے دفاع کی پہلی صف قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ہر حملہ آور کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، چاہے وہ پرتگالی ہوں یا دیگر استعماری طاقتیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس کے ساحلی علاقوں کے باشندوں کے لیے دشمن کی شناخت اس کی زبان یا پرچم سے نہیں بلکہ اس کے ارادوں سے ہوتی ہے، اور ہر جارح کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
ایک جزیرے کے محافظ نے گفتگو میں کہا کہ مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور برسوں کی تربیت اور تیاری کے بعد کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر ممکن طاقت کے ساتھ مقابلہ کریں گے اور دشمن کو سمندر میں ہی ختم کر دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تیاری محض عسکری نہیں بلکہ عقیدے اور نظریے پر بھی مبنی ہے، جس نے دفاعی عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
رپورٹ میں قشم جزیرے میں موجود برطانوی قبرستان اور ہرمز میں پرتگالی اقتدار کے خاتمے کی یادگاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خلیج فارس ہمیشہ حملہ آوروں کے زوال کی علامت رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے رکن احمد مرادی نے کہا کہ دشمن نے ابتدائی حملوں میں ہی اپنی حقیقت ظاہر کر دی اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جو اس کی کمزوری کی نشانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز بند نہیں بلکہ ایران کے کنٹرول میں ہے اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔
مرادی نے زور دیا کہ کوئی بھی امریکی فوجی ایران یا اس کے جزائر میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کر سکتا، اور ماضی میں بھی امریکی بحری بیڑے ایرانی حدود کے قریب آنے سے گریزاں رہے ہیں۔
دوسری جانب ہرمزگان کے گورنر محمد آشوری نے کہا کہ جزائر اور ساحلی علاقوں سے متعلق حالیہ بیانات دشمن کی ایک اور ناکام آزمائش ہیں، اور ایران کی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام ہمیشہ ملک کی خودمختاری کے دفاع کے لیے تیار رہے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
