پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گزشتہ چند مہینوں کے دوران اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات میں نمایاں کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے جو بعض مواقع پر مسلح تصادم کی صورتحال تک پہنچ گئی۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک اہم وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں موجودگی اور اس کی مبینہ سرگرمیوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی کے عناصر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ افغان حکام عمومی طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس صورتحال نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی حوالوں سے گہرے رہے ہیں۔ دونوں ممالک تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور مذہبی، قبائلی اور سماجی سطح پر بھی قریبی روابط رکھتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران علاقائی سلامتی، سرحدی تنازعات اور دہشت گردی جیسے مسائل نے ان تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی، جس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا ہوئی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان 2007 میں مختلف شدت پسند گروہوں کے اتحاد کے طور پر وجود میں آئی۔ اس تنظیم نے پاکستان میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دہشت گرد کاروائیوں کے بعد حکومت پاکستان نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا اور سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی۔ پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کے متعدد جنگجو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی Analytical Support and Sanctions Monitoring Team کی رپورٹس بھی اہم ہیں۔ 2023 اور 2024 میں جاری ہونے والی ان رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں سرگرم بڑے شدت پسند گروہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے کئی ہزار جنگجو افغانستان کے مشرقی صوبوں میں موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی رپورٹس کے مطابق 2022 اور 2023 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان حملوں کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں رپورٹ ہوئی، جہاں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات نے پاکستان کے اندر سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا اور حکومت کی توجہ سرحدی صورتحال اور علاقائی تعاون کی ضرورت کی طرف مبذول کرائی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بعض دہشت گرد حملوں کے بعد حملہ آور سرحد پار افغانستان چلے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں متعدد فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جس میں آپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں آپریشن ردالفساد شامل ہیں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا، تاہم سیکیورٹی اداروں کے مطابق بعض عناصر سرحد پار منتقل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

پاکستانی حکومت نے اس مسئلے کو سفارتی سطح پر بھی اٹھایا ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے افغان حکام سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اگر سرحد پار شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے تو خطے میں امن و استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے عمومی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم بعض مواقع پر افغان حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان تنازع ایک داخلی معاملہ ہے جسے مذاکرات اور سیاسی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ اس وجہ سے بعض تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر نقطہ نظر میں فرق پایا جاتا ہے، جو باہمی اعتماد کی کمی کا باعث بن رہا ہے۔

سرحدی صورتحال بھی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک اہم عنصر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔ اس سرحد کے دونوں اطراف قبائلی اور نسلی روابط پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سرحدی نقل و حرکت کو مکمل طور پر روکنا ایک عملی چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہی جغرافیائی اور سماجی صورتحال بعض شدت پسند گروہوں کو سرحد پار نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرتی ہے، جس سے سیکیورٹی کے مسائل مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔

پاکستانی حکام نے حالیہ برسوں میں افغانستان میں بیرونی طاقتوں کی ممکنہ سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق اگر کسی دشمن ملک یا تنظیم کو افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا موقع ملے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شدت پسند گروہوں کو بیرونی مالی مدد ملنے کی صورت میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں بیرونی طاقتوں کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہ کیا گیا تو پاکستان، افغانستان اور پورا وسطی ایشیائی خطہ اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی بیرونی فنڈنگ یا روابط انہیں زیادہ منظم اور خطرناک بناسکتے ہیں۔ اس لیے علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک مل کر ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے تعاون کریں۔

حالیہ برسوں میں سرحدی کشیدگی کے بعض واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں سرحد پار فائرنگ یا محدود نوعیت کی فوجی کارروائیوں کی خبریں شامل رہی ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین عام طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان مسائل کا پائیدار حل صرف سفارتی مکالمے، اعتماد سازی اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان اور افغانستان دونوں کو طویل عرصے سے دہشت گردی اور عدم استحکام کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ اس لیے ماہرین کے نزدیک دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون، مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ حکمت عملی نہایت اہم ہے۔ اگر دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کریں اور ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لیں تو علاقائی استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

آخرکار یہ حقیقت اہم ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان تاریخی، مذہبی اور سماجی روابط گہرے ہیں۔ اسی بنیاد پر مبصرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں حکومتیں باہمی اعتماد کو فروغ دیں، سفارتی رابطوں کو جاری رکھیں اور دہشت گردی جیسے مشترکہ خطرات کے خلاف تعاون بڑھائیں تو نہ صرف دو طرفہ تعلقات میں بہتری آسکتی ہے بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ مستقبل میں پائیدار امن کے لیے مسلسل سفارتی مکالمہ، علاقائی تعاون اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *