دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے سرکردہ لیڈران نے کچھ ایسے بیانات دیے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی ایرانی قیادت فی الحال جنگ بندی کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جو تازہ بیان دیا ہے، اس میں کہا ہے کہ امریکہ کو یہ غلط فہمی تھی کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران میں تختہ پلٹ ہو جائے گا، لیکن وہ اپنے منصوبہ کو کامیاب نہیں کر پائے۔ وہ ناکام ہو گئے۔ اب ’پلان بی‘ (جنگ جلد ختم کرنا) کے ذریعہ امریکہ جنگ کو جیتنا چاہتا ہے، لیکن اس میں بھی اسے کامیابی نہیں ملنے والی ہے۔ اس درمیان آئی آر جی سی کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج اب تک خلیج فارس خطہ میں امریکہ کے 10 بے حد جدید رڈار سسٹم تباہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ساتھ ہی آئی آر جی سی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ کا خاتمہ کب ہوگا، یہ واشنگٹن نہیں بلکہ تہران طے کرے گا۔
ایران پر حملہ سے امریکہ کو خسارہ ہی خسارہ! 10 دنوں میں ہی صلح کا راستہ تلاش کرتے نظر آ رہے ٹرمپ
