تیونس کے سابق وزیراعظم علی العریض کو 24 سال قید کی سزا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تیونس کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ تیونس کے سابق وزیراعظم علی العریض کو گزشتہ دس برسوں کے دوران تیونسی دہشت گردوں کے شام جانے میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں آج جمعہ کے روز 24 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

علی العریض نے 2013 سے 2014 تک 2011 کے عوامی انقلاب کے بعد کے ہنگامہ خیز دور میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

العریض 2022 سے حراست میں ہیں۔ جمعرات کو عدالتی سماعت کے دوران انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میں بے گناہ ہوں۔ میرے ساتھ ظلم کیا گیا، میرے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا اور میرے ساتھ ناانصافی کی گئی۔‘

اس مقدمے میں علی العریض کے علاوہ سات دیگر ملزمان بھی شامل ہیں جن میں وزارت داخلہ کے سابق عہدیدار بھی شامل ہیں۔ سرکاری خبر ایجنسی نے ایک عدالتی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ دیگر ملزمان کو تین سے 24 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

2011 کے عوامی انقلاب کے بعد سیکڑوں تیونسی شہری دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اور اس کے ساتھ لڑنے کے لیے شام، عراق اور لیبیا گئے تھے۔

اس مقدمے میں عبد الکریم العبیدی، جو سابق طیارہ سیکیورٹی ٹیم کے سربراہ رہ چکے ہیں، سیف الدین الرایس جو تنظیم انصار الشریعہ کے ترجمان تھے، اور دیگر نمایاں تیونسی شخصیات پر بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

تیونس کی اعلیٰ عدالت نے علی العریض کو 24 سال، فتحی بلدی کو 22 سال اور عبد الکریم العبیدی کو 22 سال قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ نور الدین قندوز، لطفی الہمامی، ہشام السعدی، سامی الشعار اور سیف الدین الرایس بھی اس مقدمے کے دیگر ملزمان میں شامل ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *