
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نوری المالکی کے دفتر کے میڈیا ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کے لیے اہم امیدواروں میں شامل نوری المالکی نے عراق میں امریکہ کے خصوصی نمائندے ٹام براک سے ملاقات کی۔
رپورٹ کے مطابق نوری المالکی، جن کا نام مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر لیا جا رہا ہے، کو امریکی مخالفت کا سامنا ہے۔
پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد کوارڈینیشن فریم ورک نامی اتحاد نے مالکی کو وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب کیا، تاہم امریکہ نے عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مالکی دوبارہ اس منصب پر فائز ہوئے تو واشنگٹن عراق کی حمایت پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور عراق کے درمیان سیکیورٹی امور، علاقائی توازن اور عراق میں غیر ملکی افواج کے کردار جیسے معاملات پر اختلافات کے باعث تعلقات نسبتاً کشیدہ ہیں۔
کوارڈینیشن فریم ورک گزشتہ کئی ہفتوں سے مالکی کا نام امیدواروں کی فہرست سے نکالنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
دوسری جانب نوری المالکی، بطور سربراہ اتحاد دولت قانون، اپنے پارلیمانی وزن اور اتحاد میں کردار کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کو اپنا سیاسی حق قرار دیتے ہوئے اس پر قائم ہیں۔
