اس مقدمے میں مجسٹریٹ عدالت نے سنجے راؤت کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 15 دن قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ تاہم اپیل دائر کرنے کے لیے سزا پر عارضی روک لگا دی گئی تھی۔ بعد ازاں راؤت نے سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
سیشن عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور جمعرات کو سنائے گئے حکم میں مجسٹریٹ عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سنجے راؤت کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ راؤت نے اسے قانونی جدوجہد کی کامیابی قرار دیا ہے۔
