وائٹ ہاؤس میں الجھن، ایران پر دباؤ کی حکمت عملی کی ناکامی کے اسباب اور وجوہات

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: حال ہی میں صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکاف نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات کا ذکر کیا کہ امریکی صدر اس امر پر حیران اور کسی حد تک پریشان ہیں کہ وسیع معاشی دباؤ، مسلسل دھمکیوں اور فوجی طاقت کے مظاہروں کے باوجود ایران پسپائی اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔

یہ بیان محض ایک جملہ نہیں بلکہ امریکی پالیسی کے ایک بنیادی مفروضے کی عکاسی کرتا ہے۔ واشنگٹن کو اندازہ یہ تھا کہ شدید معاشی پابندیاں، خطے میں طیارہ بردار بحری بیڑوں کی تعیناتی، جدید جنگی طیاروں کی موجودگی اور نمایاں فوجی مشقیں بالآخر تہران کو اپنے اسٹریٹجک مؤقف میں نرمی پر مجبور کر دیں گی۔ اس سوچ کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ ریاستیں بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ میں اپنے مفادات کا ازسرنو حساب لگاتی ہیں اور تنازع کم کرنے کے لیے رعایتیں دیتی ہیں۔

تاہم ناقدین کے مطابق اصل مسئلہ طاقت کے فقدان کا نہیں بلکہ فریق مقابل کی سیاسی نفسیات اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کو درست نہ سمجھنے کا ہے۔ ایران نے خود کو ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو دباؤ کو محض لاگت نہیں بلکہ مزاحمت کے بیانیے کا حصہ سمجھتا ہے۔ اس تناظر میں زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی متوقع نتائج دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

موجودہ صورتحال اس بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ ہمیشہ مطلوبہ سیاسی نتیجہ پیدا کرتا ہے، یا بعض اوقات وہ فریق مقابل کو مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔ عالمی سیاست کی بساط پر یہی غلط فہمیاں اکثر طویل کشمکش کا سبب بنتی ہیں۔

ٹرمپ کی جارحانہ حکمت عملی پر ایران کی مدبرانہ مزاحمت غالب

دفاعی اور معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف ایک نفسیاتی اور میڈیا جنگ بھی شروع کی گئی۔ مغربی میڈیا مسلسل یہ تاثر دیتا رہا کہ ایران مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اندرونی طور پر انتشار کا شکار ہے اور اس کی معیشت کمزور ہوچکی ہے، اس لیے وہ دباؤ کے سامنے جلد پسپائی اختیار کرلے گا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی قیادت فیصلہ سازی میں الجھن کا شکار ہے اور دباؤ کے باعث نظام کمزور ہو رہا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال نے اس تصویر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

اب امریکہ خود ایک طرح کی الجھن میں دکھائی دے رہا ہے کہ اس کی تیار کردہ حکمت عملی کام کیوں نہیں کر رہی۔ جب دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت کا صدر یہ سوال اٹھائے کہ مخالف فریق دباؤ کے باوجود کیوں نہیں جھکا، تو اس کا مطلب صرف ایران کی پالیسی نہیں بلکہ واشنگٹن کے انداز فکر پر بھی سوال اٹھنا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ خارجہ پالیسی کو کاروباری سودے کی طرح دیکھتے ہیں، جہاں زیادہ دباؤ ڈالنے سے دوسرا فریق آخرکار رعایت دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس سوچ کے مطابق ہر ملک کی ایک حد ہوتی ہے جہاں وہ زیادہ نقصان برداشت نہیں کرسکتا اور پسپائی اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن ایران کے معاملے میں یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا۔

امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے بھی لکھا کہ ٹرمپ یہ سمجھنے میں مشکل محسوس کررہے ہیں کہ دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود ایران کی قیادت کیوں پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ ان کے خیال میں ہر فریق کو مذاکرات پر لانے کے لیے دباؤ اور مراعات کا امتزاج استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن جب یہ حکمت عملی ایسے نظام کے سامنے آئے جو اپنی شناخت آزادی اور مزاحمت پر قائم کرتا ہو، تو یہ مفروضہ کمزور پڑجاتا ہے۔

ایران کے بارے میں مغربی بیانیہ اور زمینی حقائق

گزشتہ چالیس سالوں میں ایران نے اپنے اہم فیصلے خوف کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی سلامتی، شناخت اور تاریخی تجربات کو سامنے رکھ کر کیے ہیں۔ اس لیے ایران کے لیے بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنا صرف ایک وقتی فیصلہ نہیں بلکہ ملک کی اندرونی سیاسی بنیادوں کو کمزور کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

ایران کی طاقت صرف فوجی قوت یا میزائل ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے، اگرچہ یہ چیزیں بھی دفاع کا حصہ ہیں۔ اصل چیز جو دباؤ کی پالیسی کو ناکام بناتی ہے وہ سیاسی ارادہ، اداروں کی مضبوطی اور بیرونی خطرات کے ساتھ طویل تجربہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قیام کے بعد سے مسلسل دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے، جن میں جنگ، سخت معاشی پابندیاں، فوجی دھمکیاں اور اندرونی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔

اس طویل تجربے نے ایران کے فیصلے کرنے کے انداز میں ایک طرح کی مضبوط یادداشت پیدا کر دی ہے۔ اسی وجہ سے جب دباؤ بڑھایا جاتا ہے تو عام طور پر ایران کے اندر اتحاد مزید مضبوط ہو جاتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ اپنی پالیسی بدل دے۔

امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ بھی اسی مقصد سے کیا کہ ایران کو خوفزدہ کر کے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ فوجی طاقت کا مظاہرہ اور اقتصادی پابندیاں مل کر ایران کو کمزور کر دیں گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس رہی۔ نہ ایران نے ہتھیار ڈالنے کے آثار دکھائے اور نہ اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹا۔ اس کے بجائے ایران نے سفارتی سطح پر پرسکون رویہ برقرار رکھتے ہوئے اور ساتھ ہی اپنی دفاعی صلاحیت پر زور دے کر یہ پیغام دیا کہ دھمکیوں سے نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

اسی دوران مغربی ذرائع ابلاغ کی یہ بات بھی حقیقت کے مطابق نہیں لگتی کہ ایران کمزور ہو رہا ہے۔ ایران نے مشکل حالات اور شدید ترین پابندیوں کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود اپنی بنیادی حکمت عملی تبدیل نہیں کی۔ اندرونی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں بھی ایران کی مجموعی خارجہ پالیسی کو تبدیل نہیں کر سکیں۔ یہی بات اب امریکی فیصلہ سازوں کے لیے حیرانی کا باعث بن چکی ہے، کیونکہ وہ توقع کر رہے تھے کہ دباؤ بڑھانے سے ایران جلد جھک جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ایران نہیں بدلے گا بلکہ واشنگٹن کو بدلنا ہوگا

اب تک کی کشمکش اور تنازعات کی روشنی میں سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ایران جیسے ملک کے خلاف ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی۔ اسی پالیسی کو یہ سوچ کر جاری رکھنا کہ شاید اس بار نتیجہ نکل آئے گا، طاقت کی علامت نہیں بلکہ اپنی کمزروی سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مخالف ملک کی سوچ اور طاقت کو صحیح نہ سمجھنا بڑے نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ امریکہ کے پاس دباؤ ڈالنے کے وسائل کم ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہر ملک دھمکیوں کا ایک ہی طرح جواب نہیں دیتا۔ ایران نے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کی بنیاد کو اپنے قومی مفادات، سلامتی کے تقاضوں اور اپنی شناخت پر رکھی ہے۔ ماضی کے تجربات نے بھی ثابت کیا ہے کہ بیرونی دباؤ ایران کو اپنی پالیسی بدلنے کے بجائے زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ جب تک واشنگٹن یہ بات نہیں سمجھے گا کہ دھمکیوں سے ہر ملک کو جھکایا نہیں جاسکتا، تب تک یہ الجھن برقرار رہے گی۔

اب امریکہ کے سامنے دو راستے ہیں: اسی پرانی پالیسی کو جاری رکھے جو اب تک کامیاب نہیں ہوئی اور صرف کشیدگی بڑھا رہی ہے، یا ایران کے بارے میں اپنی سوچ پر نظر ثانی کرے۔ ایران کے نظام اور طاقت کی ساخت کو سمجھنا اس کی حمایت نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ پالیسی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دباؤ اور ردعمل کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں گے۔

آسان الفاظ میں کہا جائے تو امریکہ کی سوچ اور زمینی حقائق میں فرق ہے۔ امریکہ سمجھتا تھا کہ دباؤ بڑھانے سے ایران جلد جھک جائے گا۔ ایران نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دھمکیوں سے مرعوب ہوکر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ اب فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے کہ وہ اپنی پرانی سوچ بدلتا ہے یا نہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *