داووس میں کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی تقریر، ’درمیانی طاقتوں کو نیا راستہ اپنانا ہوگا‘

اس سوال کا جواب وہ ایک سبزی فروش کی مثال سے دیتے ہیں۔

ہر صبح، ایک دکاندار اپنی دکان کی کھڑکی میں ایک تختی لگاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے، ’دنیا کے مزدورو، ایک ہو جاؤ۔‘ وہ خود اس نعرے پر یقین نہیں رکھتا۔ کوئی بھی اس پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ تختی لگاتا ہے—پریشانی سے بچنے کے لیے، وفاداری کا اشارہ دینے کے لیے اور نظام کے ساتھ تال میل برقرار رکھنے کے لیے۔

جب ہر گلی میں ہر دکاندار یہی عمل کرتا ہے تو نظام قائم رہتا ہے۔ یہ محض تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ عام لوگوں کی اس شمولیت کی وجہ سے ہوتا ہے، جس میں وہ ایسی رسومات کا حصہ بنتے ہیں جنہیں وہ نجی طور پر جھوٹ سمجھتے ہیں۔

ہیول نے اس کیفیت کو ‘جھوٹ کے اندر جینا’ قرار دیا تھا۔ نظام کی طاقت اس کی سچائی سے نہیں بلکہ اس بات سے آتی ہے کہ ہر شخص ایسا برتاؤ کرتا ہے جیسے وہ سچ ہو۔ اور اسی وجہ سے نظام نازک بھی ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی ایک فرد یہ اداکاری بند کر دیتا ہے، جیسے ہی دکاندار اپنی کھڑکی سے تختی ہٹا دیتا ہے، تو اس وہم میں دراڑ پڑنے لگتی ہے۔

دوستو! اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تختیاں اتار دی جائیں۔‘‘

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *