’’میں ایک جنگی قیدی ہوں اور وینزولا کا صدر ہوں‘‘: مادورو کا عدالت سے باہر نکلتے ہوئے بیان

اپنی عدالت میں پیشی کے اختتام پر، مادورو نے ہجوم کی طرف ہاتھ ہلایا، جس کے بعد ایک راہگیر اس کے پاس پہنچا۔ اس آدمی نے کہا، “آپ کو وینزویلا کی طرف سے قیمت ادا کرنی پڑے گی۔” مادورو نے جواب دیا، “خدا کے فضل سے، میں آزاد ہو جاؤں گا۔”

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *