
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، المیادین کے حوالے سے لبنان کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس کے مجاہدین نے اسرائیلی فوج کے نمر الجمل نامی فوجی مقام کو متعدد خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
حزب اللہ نے ایک اور بیان میں کہا کہ اس کے فضائی دفاعی یونٹوں نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے اسرائیلی فوج کے ہرمس 450 طرز کے ڈرون کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اسے لبنانی فضائی حدود سے پسپا ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔
مزاحمتی تنظیم نے مزید بتایا کہ اس کے مجاہدین نے طیر حرفا بستی کے اطراف واقع رجمان علاقے میں اسرائیلی فوج کی بکتر بند گاڑیوں اور فوجیوں کے اجتماع پر بھی مسلسل حملے کیے۔
اس سے قبل عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ لبنان میں ایک دھماکے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی ایک خاتون اہلکار زخمی ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایک دوسرے واقعے میں بھی دو افراد دھماکے سے زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ادھر آج صبح اسرائیلی فوج نے دعوی کیا کہ لبنان سے شمالی فلسطین کے کئی علاقوں اور آبادیوں کی جانب متعدد میزائل داغے گئے۔
ان حملوں کے بعد اسرائیلی داخلی محاذ نے بالائی جلیل کے علاقے میں واقع مسکاو عام اور المطلہ نامی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ دو میزائل جنوبی لبنان کے اس علاقے کے قریب گرے جہاں اسرائیلی فوجی تعینات ہیں۔
اسرائیلی حکومت اگرچہ شمالی فلسطین میں حزب اللہ کے حملوں کو کم اہمیت دینے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اسرائیلی فوجی ریڈیو کے نامہ نگار دورون کدوش نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں شمالی فلسطین کی صورت حال کو معمول کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ شمالی علاقوں کے باشندے گزشتہ تین ماہ سے ایک ناقابل برداشت ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں خطرے کے سائرن، فائرنگ اور جنگ کی آوازیں مسلسل ان کے سروں اور گھروں کے اطراف گونجتی رہتی ہیں۔
اسرائیلی صحافی نے مزید کہا کہ شمالی علاقوں کے رہائشی اب اس صورت حال کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ سائرن بجنے کے بعد بھی انہیں تفصیلات کا انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا میزائل واقعی مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوا ہے یا نہیں۔
کدوش کے مطابق اس کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسرائیلی حکام اس واقعے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کریں گے یا پھر ردعمل ظاہر کریں گے۔
