
مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے نائب سربراہ اور ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ نے بغیر کسی قانونی اجازت کے کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ آئین کی ایک فاش شکست تھی، کیونکہ جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، صدر کے پاس نہیں۔
سینیٹر ریڈ نے مزید کہا کہ حکومتوں کی یکطرفہ اور پرتشدد تبدیلی اس بین الاقوامی نظم کو کمزور کرتی ہے جس پر ہم یوکرین پر قبضے کی مذمت اور چین کو روکنے کے لیے انحصار کرتے ہیں۔
اسی دوران، امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن ایانا پریسلی نے کہا کہ وینزویلا پر بمباری اور مادورو کا اغوا امریکی آئین اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ کے اقدامات امریکیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، خطے کو غیر مستحکم کرتے ہیں اور ہمیں اربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کانگریس اس لاامتناہی جنگ کو ختم کرے اور ٹرمپ کا احتساب کرے۔
ایوانِ نمائندگان کی ایک اور رکن سارہ جیکبز نے بھی کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے صدر مادورو کا اغوا امریکی عوام کے تحفظ میں مددگار ثابت نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے منشیات کی اسمگلنگ رکے گی۔ جیکبز نے تاکید کی کہ یہ ایک فوجی آپریشن ہے جو امریکی اور بین الاقوامی دونوں قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے امریکہ کو ایک مہنگی اور غیر ضروری جنگ میں دھکیل دیا ہے، جبکہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم جنگوں کو ختم کرنے کے وعدے پر لڑی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ماضی کی امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اب وہ بدترین غلطیوں کو دہرا رہے ہیں۔
جیکبز نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگلے ہفتے سینیٹ میں ایک قرارداد پر ووٹنگ ہوگی جس کا مقصد کانگریس کی اجازت کے بغیر وینزویلا کے خلاف کسی بھی امریکی فوجی اقدام کو روکنا ہے۔
مزید برآں، کانگریس کی رکن میلانی اسٹینزبری نے وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں کانگریس میں اپنے ساتھیوں سے کہتی ہوں کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور صدر ٹرمپ کے اقدامات کو روکیں۔
