مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں نے مادورو کی گرفتاری کا منظر ٹی وی پر براہِ راست دیکھا۔ ایک ہفتہ قبل جب میری مادورو سے بات ہوئی تھی، تو میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، لیکن آخر کار ہمیں فوجی کارروائی کرنی پڑی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ میرا ماننا ہے کہ گرفتاری کے اس آپریشن کے دوران ہمارا کوئی فوجی ہلاک نہیں ہوا، جبکہ صرف چند اہلکار زخمی ہوئے۔ آپریشن کے لیے وقت کا انتخاب بہترین تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ آپریشن چار دن پہلے ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے اسے ملتوی کیا گیا۔ مادورو گرفتاری کے وقت ایک مضبوط قلعے میں تھے اور ہم اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار تھے۔ اب انہیں ایک بحری جہاز پر منتقل کر دیا گیا ہے اور نیویارک لایا جائے گا۔
امریکی صدر نے مداخلت پسندانہ انداز میں کہا کہ ہم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ وینزویلا میں کوئی دوسرا شخص وہاں سے شروع کرے جہاں مادورو نے ختم کیا تھا۔ ہم اس فیصلے میں شامل ہوں گے کہ وینزویلا میں اقتدار کون سنبھالے گا اور اس وقت ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا ماریا کورینا ماچادو وینزویلا کی قیادت کر سکتی ہیں یا نہیں۔
وینزویلا کے قدرتی وسائل اور دولت پر اپنی نظریں جماتے ہوئے ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ہم وینزویلا کے آئل سیکٹر میں پوری طاقت کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ہمارے چینی صدر کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بیجنگ کو اس آپریشن پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، انہیں ان کا تیل ملتا رہے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مادورو کو نشانہ بنانے والے اس آپریشن نے واضح پیغامات بھیجے ہیں۔
وینزویلا کے عوام کو دھمکاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر مادورو کے وفاداروں نے ان کی حمایت جاری رکھی تو ان کا مستقبل تاریک ہے۔
انٹرویو کے آخر میں انہوں نے منشیات کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ منشیات کی وجہ سے سالانہ 3 لاکھ افراد کھو دیتا ہے اور اب ہم اس معاملے پر کسی بھی ملک کے ساتھ مزید کوئی رعایت نہیں برتیں گے۔
