امریکی حملہ کے بعد وینزویلا کے گرفتار صدر مادورو کی تصویر آئی سامنے، نیویارک میں مقدمہ ہوا دائر

دوسری طرف ترینداد و ٹوبیگو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پڑوسی ملک وینزویلا پر امریکی فوجی مہم میں وہ شامل نہیں تھا۔ ترینداد و ٹوبیگو کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ وینزویلا کی عوام کے ساتھ اپنے پُرامن تعلقات کو بنائے رکھنا جاری رکھے گا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے بھی کچھ ایسا ہی بیان دیا ہے۔ انھوں نے امریکی حملوں سے برطانیہ کو الگ کر لیا ہے۔ اسٹارمر نے گزارش کی ہے کہ سبھی ممالک کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں بالکل واضح طور سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس میں شامل نہیں تھے۔ میں ہمیشہ کہتا اور مانتا ہوں کہ ہم سبھی کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔‘‘

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *