کسی بھی جارحیت کا جواب فوری، فیصلہ کن اور ہمہ گیر ہوگا، ایرانی وزارت خارجہ کا انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے جمعہ کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ، ایران کے اندرونی معاملات کے بارے میں امریکی صدر اور دیگر حکام کے مداخلت پسندانہ بیانات کی شدید مذمت کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ موقف، جو ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کے دھونس اور غیر قانونی رویے کا تسلسل ہیں، نہ صرف ممالک کی قومی خودمختاری کے احترام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں اور قواعد کی صریح خلاف ورزی ہیں، بلکہ یہ ایرانی شہریوں کو تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے مترادف بھی ہیں۔

وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایرانی معاملات میں مختلف امریکی حکومتوں کی مجرمانہ مداخلتوں کی طویل تاریخ کو یاد کرتے ہوئے، وزارت خارجہ عظیم ایرانی قوم کے ساتھ ہمدردی کے دعوے کو منافقانہ سمجھتی ہے، جس کا مقصد رائے عامہ کو دھوکہ دینا اور ایرانیوں کے خلاف کیے جانے والے متعدد جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔

بیان میں مزید کہا ہے کہ وزارت خارجہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سلامتی کونسل اور اس کے سیکرٹری جنرل کے فرائض اور ذمہ داریوں کو یاد دلاتی ہے کہ وہ امریکہ کی جنگجویانہ یکطرفہ پسندی کے خلاف بین الاقوامی امن و سلامتی کو یقینی بنائیں، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایرانی اپنے مسائل حل کرنے کے لیے آپس میں ہونے والے مکالمے اور میل جول میں کسی بھی قسم کی بدنیتی پر مبنی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ وزارت خارجہ ایران کے خلاف امریکی حکام کے دھمکی آمیز ریمارکس کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کی صیہونی حکومت کی پالیسی کے عین مطابق قرار دیتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا کسی بھی جارحیت کا جواب فوری، فیصلہ کن اور ہمہ گیر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورتحال کے نتائج کی ذمہ داری، جو پورے خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے، مکمل طور پر امریکی حکومت پر عائد ہوگی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *