
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اپنے ترجمان ابو عبیدہ اور محمد سنوار سمیت کئی کمانڈروں کی شہادت کی تصدیق کی۔
محمد سنوار نے جو 50 برس کی عمر میں شہید ہوئے، آپریشن طوفان الاقصی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے 7 اکتوبر 2023 کی صبح غزہ کے اطراف میں اسرائیلی بستیوں پر حملے کی نگرانی کی۔
مختصر سوانح حیات
محمد ابراہیم سنوار ستمبر 1975 میں جنوبی غزہ کے خان یونس پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق شہر المجدل کے ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان سے تھا۔ حماس کے قیام کے ابتدائی برسوں ہی میں وہ اس تحریک میں شامل ہوگئے اور مزاحمتی جدوجہد کا حصہ بنے۔
سنوار کی سرگرمیاں انتفاضہ الاقصی (2000) کے دوران نمایاں ہوئیں۔ اس عرصے میں انہوں نے عسکری میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور حماس کے عسکری ونگ القسام میں مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ محمد سنوار نے القسام میں مختلف فوجی عہدوں پر ترقی حاصل کی۔ بالآخر انہوں نے خان یونس بریگیڈ کی کمان سنبھالی۔ ان کی یہ پیشرفت انہیں غزہ کی عسکری کونسل کے نمایاں ارکان میں شامل کرنے کا باعث بنی۔
صہیونی حکومت کی نیندیں حرام کرنے والے جہادی کمانڈر محمد سنوار 50 سال کی عمر میں قابض افواج سے لڑتے ہوئے غزہ میں جام شہادت نوش کرگئے۔
القسام کی قیادت
محمد سنوار اپنی سخت گیر پالیسیوں کے لیے مشہور تھے۔ جنگ کے دوران وہ قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات کی نگرانی بھی کرتے رہے۔ صہیونی ذرائع کے مطابق، القسام کے کمانڈروں محمد ضیف اور مروان عیسی کے قتل کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ محمد سنوار نے ان دستوں کی کمان سنبھال لی ہے۔
محمد سنوار کا نام اپنے بھائی یحیی سنوار کے ساتھ جڑا ہوا تھا، جو غزہ میں حماس کے رہنما تھے اور اکتوبر 2024 میں رفح شہر کے مغرب میں محلہ تل السلطان میں قابض افواج کے ساتھ براہ راست جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔
محمد سنوار کا القسام کے اہم کمانڈر محمد ضیف کے ساتھ گہرا تعلق تھا کیونکہ دونوں خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں پروان چڑھے تھے۔ اسی طرح جنوبی غزہ کے دیگر کمانڈروں جیسے رائد العطار، محمد ابوشمالہ اور محمد برہوم کے ساتھ بھی ان کے مضبوط روابط تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے 2014 کی غزہ جنگ میں شہید کردیا۔
صہیونی حکومت نے محمد سنوار کو طویل عرصے سے ان افراد کی فہرست میں شامل کررکھا تھا جن کی سخت نگرانی کی جارہی تھی۔ وہ اسرائیلی حملوں سے بچ نکلنے کے لیے مشہور تھے۔ تل ابیب نے انہیں 25 جون 2006 کے آپریشن «الوهم المتبدد» کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا، جس میں رفح کے مشرقی سرحد پر ایک اسرائیلی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوجی گیلعاد شالیط پانچ برس تک قید میں رہا۔
عسکری منصوبہ بندی اور لاجسٹک سپورٹ کا ماہر
محمد سنوار اپنی سنجیدہ، کھری اور سخت گیر شخصیت کے لیے مشہور تھے۔ عسکری معاملات میں وہ نہایت سخت اور اصول پسند سمجھے جاتے تھے۔ میڈیا میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی، اسی وجہ سے انہیں “مردِ سایہ” کا لقب دیا گیا۔ یہ لقب اس بات کی علامت تھا کہ وہ پس پردہ رہ کر بڑے فیصلے اور منصوبہ بندی کرتے تھے اور عوامی سطح پر کم ہی سامنے آتے تھے۔
حالیہ برسوں میں محمد سنوار نے القسام کے سینٹرل کمانڈ میں کلیدی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ وہ اس سطح پر عسکری منصوبہ بندی اور لاجسٹک سپورٹ کے بنیادی امور کے نگران تھے۔ عسکری تیاری اور جنگی ساز و سامان کی فراہمی، اسلحہ اور عسکری صنعتوں کے آلات کی نگرانی، تربیتی مراکز کے انتظامی امور اور مجاہدین کی تیاری اور لاجسٹک سپورٹ اور عسکری ڈھانچے کو مضبوط بنانا ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔
سنوار نے 2012 کے بعد عسکری تیاری اور ساز و سامان کے شعبے پر براہ راست نظر رکھی۔ وہ اس بات کو یقینی بناتے رہے کہ القسام کو نہ صرف جدید اسلحہ فراہم ہو بلکہ عسکری صنعتوں اور تربیتی مراکز کو بھی فعال رکھا جائے۔ اس طرح وہ حماس کے عسکری ونگ کو ایک منظم اور خود کفیل قوت بنانے میں کامیاب ہوئے۔
یہ ذمہ داری انہوں نے اپنے بھائی شہید یحیی سنوار کی قیادت میں سنبھالی۔ یحیی سنوار 2011 میں رہائی کے بعد حماس کے دفتر کے عسکری شعبے کے سربراہ بنے اور 2017 میں غزہ میں حماس کے صدر منتخب ہوئے۔ محمد سنوار نے عسکری منصوبہ بندی اور لاجسٹک سپورٹ کے میدان میں اپنی مہارت کو بروئے کار لایا۔
