
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں آپریشن سدرن سپیئر کی جوائنٹ ٹاسک فورس نے 31 دسمبر کو امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے احکامات پر بحری جہازوں پر حملہ کیا۔
امریکی سدرن کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یہ جہاز منشیات کی اسمگلنگ کے لیے معروف راستوں پر سفر کر رہے تھے اور اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ کمانڈ کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں پہلی کشتی پر سوار تین افراد اور دوسری کشتی پر سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن مسلسل وینزویلا پر یہ غیر منصفانہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف فعال کارروائی نہیں کر رہا۔
نیویارک ٹائمز نے اگست میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکی منشیات کے کارٹلز کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے آغاز کے لیے ایک غیر علانیہ ہدایت نامے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد، بحیرہ کیریبین میں طیارہ بردار بحری جہاز گیرالڈ آر فورڈ کی قیادت میں بحری بیڑے سمیت اہم اضافی امریکی افواج تعینات کی گئی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں امریکی فوج نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مہم کے بہانے لاطینی امریکہ کے ساحلوں پر تقریباً 30 کشتیاں تباہ کی ہیں اور 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک حملے کے بعد، کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی آپریشن نے ان کے ملک کے ایک ماہی گیر کو قتل کیا ہے، نہ کہ کسی منشیات فروش کو۔
