ایران کا عالمی ایٹمی ایجنسی کو خط؛ امریکہ کی حالیہ دھمکیوں پر سخت انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں ایران کے مستقل مندوب نے اپنے خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی حالیہ دھمکیوں کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی دھمکیاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی ساکھ اور عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے لیے خطرہ ہیں۔

خط کے ایک حصے میں، ایرانی مشن نے اس بات پر زور دیا کہ ان دھمکیوں کو معمول بنانا ایجنسی کی ساکھ کو خطرے میں ڈال دے گا اور اس کی تصدیق سازی کی سرگرمیوں کے ذریعے قائم ہونے والے بین الاقوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائے گا۔ مشن نے تاکید کی کہ اس طرح کے لاپرواہ اقدامات کی مذمت کی جانی چاہیے اور ذمہ داروں کو مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ 29 دسمبر کو صیہونی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن طاقت کے استعمال کا آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ایران دوبارہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہوں گے، کیونکہ اگر وہ ایسا کر رہے ہیں، تو ہمارے پاس اس صلاحیت کو بہت تیزی سے ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔”

ٹرمپ کے ان کھلے عام محاذ آرائی پر مبنی ریمارکس کو بے جواب نہیں چھوڑا گیا۔

29 دسمبر کی دھمکی کے چند گھنٹوں کے اندر ہی، سیاسی، عسکری اور سفارتی شعبوں سے وابستہ سینیئر ایرانی حکام نے سخت ردِعمل جاری کیا، واشنگٹن کے لہجے کو مسترد کیا اور اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے ایران کے حق کا اعادہ کیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *