کسی بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، علی شمخانی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ معظم کے سینئر مشیر ایڈمرل علی شمخانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کی مشترکہ پریس کانفرنس میں دی گئی دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا ہے۔ علی شمخانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے دفاعی نظریے میں کچھ ردِعمل خطرات کے عملی جامہ پہنانے کے مرحلے تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتیں نہ تو محدود کی جا سکتی ہیں اور نہ ہی ہمیں اپنا دفاع کرنے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔

شمخانی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام کا جواب اتنا سخت اور فوری ہوگا جو دشمنوں کے تصور سے بھی باہر ہے۔ ان کا یہ بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے اپنی جوہری یا عسکری صلاحیتیں دوبارہ بڑھانا شروع کیں تو امریکہ اسے جڑ سے ختم کر دے گا۔

یاد رہے کہ فلوریڈا میں نتن یاہو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جس پر ایرانی عسکری اور سیاسی قیادت نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

ایڈمرل شمخانی کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ جاری رکھے گا اور کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں دشمن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *