
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے وزیرِ اعظم کے دفتر کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام ان رپورٹس کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں جن کے مطابق نتن یاہو کے معتمدِ خاص اور دفتر کے چیف سکریٹری تزاحی براورمن کا فون حنظلہ گروپ نے ہک کر لیا ہے۔
سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ حنظلہ گروپ کے پیغامات انتہائی سوچ سمجھ کر ترتیب دیے گئے ہیں۔ ٹویٹ کا آغاز فلائٹ بی بی گیٹ سے کیا گیا ہے، جہاں بی بی، نتن یاہو کا عرفی نام ہے اور گیٹ کسی بڑے اسکینڈل کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ تحفظ کی تہیں اب سخت ہو رہی ہیں، جو دراصل اسرائیلی سیکیورٹی سسٹم کی تاثیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ہیکرز نے استعاراتی زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کبھی کبھی راز بھی اڑان بھرتے ہیں اور یہ کہ یہ پروازیں ایسے نشانات چھوڑتی ہیں جو صرف وہی دیکھ سکتے ہیں جو جاننا چاہتے ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہیکرز کو نتن یاہو کے نجی دوروں، میٹنگز کے وقت اور مقام کے ڈیجیٹل لاگز تک مکمل رسائی حاصل ہو چکی ہے۔
پیغام کے آخر میں نتن یاہو کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا: بی بی! ایسا لگتا ہے کہ اس بار آپ اپنے ساتھ کچھ بہت ہی دلچسپ تحفے لے کر جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہاں تحفے سے مراد وہ شرمناک یا حساس دستاویزات اور ریکارڈنگز ہیں جو چیف سیکرٹری کے فون سے حاصل کی گئی ہیں اور جن کی تشہیر نتن یاہو کی حکومت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
