
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں اقتصادی مشکلات بڑھنے کی وجہ سے عوام کے درمیان صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گررہا ہے۔
اکانومسٹ ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت سال بھر میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ جنوری میں وہ 2 فیصد کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں واپس آئے، مگر بعد میں مقبولیت میں کمی دیکھنے میں آئی اور دسمبر کے آغاز میں یہ منفی 18 فیصد تک پہنچ گئی۔ کچھ ہفتوں کے لیے تھوڑی بہت بہتری آئی، لیکن کرسمس سے قبل دوبارہ یہ منفی 17 فیصد پر آگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک اہم وجہ ان کی اقتصادی کارکردگی ہے۔ گزشتہ صدارتی مہم میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ جوبائیڈن کے دور میں امریکی معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ زندگی کو دوبارہ معاشی طور پر قابل برداشت بنائیں گے۔ ابتدائی طور پر ووٹرز نے اس پر یقین کیا اور جب وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو اقتصادی اور روزگار کے شعبے میں ان کی مقبولیت 12 فیصد مثبت تھی۔ تاہم بعد میں بے روزگاری کی شرح بڑھی اور قیمتیں بلند سطح پر رہیں۔ تجارتی محصولات اور صحت کے شعبے میں ان کی پالیسیوں پر بھی خدشات بڑھ گئے۔ اس وقت ٹرمپ کی اقتصادی مقبولیت کا خالص سکور منفی 17 ہے۔
اکانومسٹ کے مطابق، سروے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی، قیمتیں، ٹیکس، روزگار، اقتصادی کارکردگی، ہجرت اور قومی سلامتی جیسے موضوعات میں عوام کی ٹرمپ کے کام سے اطمینان کی سطح میں کمی آئی ہے۔ صدارت کے آغاز میں مثبت رہنے والے یہ اعداد و شمار اب زیادہ تر منفی زون میں آچکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کے خلاف نارضایتی حتی کہ ان ریاستوں میں بھی پائی جاتی ہے جہاں چند ماہ قبل ہی انھیں ووٹ دیا گیا تھا۔ اگرچہ وفادار ووٹرز اب بھی ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں، لیکن یہ اعداد و شمار اگلے سال کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری کرنے والے ریپبلکنز کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
اکانومسٹ کے مطابق، یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل اور اعلی تعلیم یافتہ افراد نے سب سے کم حمایت دی ہے، جبکہ بزرگ اور ریٹائرڈ ووٹرز، جو روایتی طور پر ریپبلکن بیس کے حصہ ہوتے ہیں، اس بار پہلے کی طرح ٹرمپ کی حمایت نہیں کر رہے۔
2017 سے اب تک سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت، ہجرت، قومی سلامتی اور صحت و علاج کے شعبوں میں عام امریکیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ 2025 میں دوبارہ معیشت اور مہنگائی سب سے اوپر ہیں۔
