
حیدرآباد کے مادھاپور میں گٹلہ بیگم پیٹ کے کاویری ہلز میں واقع مسجدِ عالمگیر سے منسلک وقف اراضی پر جاری ناجائز قبضوں کے معاملے نے حکومت کو سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وزیرِ اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ وقف املاک کے تحفظ میں کسی بھی قسم کی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت پوری قوت کے ساتھ کارروائی کرے گی۔
مسجد کمیٹی کی شکایات سامنے آنے کے بعد وزیر خود موقع پر پہنچے اور محکمۂ ریونیو، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، حیدرآباد پولیس، حیدرا اور تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران اراضی کی موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی۔
وزیر نے واضح کیا کہ وقف املاک اور اقلیتی مذہبی مقامات پر کسی بھی نوعیت کی غیر قانونی سرگرمی ناقابلِ قبول ہے۔ انھوں نے کہا کہ قبضہ کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی جو اس عمل میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی برتنے والے عہدیداروں کے خلاف بھی ذاتی ذمہ داری طے کی جائے گی۔
محمد اظہرالدین نے بتایا کہ مسجدِ آلنگیر سے وابستہ تقریباً 90 ایکڑ اراضی کا تحفظ حکومت کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لئے مستقل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی دراندازی یا ناجائز قبضے کی کوشش ناکام بنائی جا سکے۔
اس موقع پر وقف بورڈ کے چیئرمین سید عظمت اللہ حسینی، اقلیتی بہبود کے سکریٹری شفیع اللہ،مجلس کے رکن اسمبلی کوثر محی الدین، حکومتِ تلنگانہ کے مشیر محمد علی شبیر ، ٹمریز کے چیئرمین فہیم قریشی، مادھاپور کے ایڈیشنل ڈی سی پی دیانند ریڈی، وقف بورڈ کے سی ای او اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

