نتن یاہو اسرائیل کے ماتھے پر بدنما داغ بن چکا ہے، سابق اسرائیلی وزیراعظم

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اپوزیشن کے سربراہ یائر لیپڈ نے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نتن یاہو اب پوری دنیا کے سامنے ایک ایسی رسوائی بن چکے ہیں جس سے اسرائیل کا چہرہ مسخ ہو رہا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی پارلیمنٹ کے سپیکر امیر اوحانا، پیراگوئے کے پارلیمانی سپیکر رائول لاٹوری کو نیتن یاہو سے ملوانے کے لیے اس عدالت میں لے گئے جہاں وزیراعظم کے خلاف کرپشن کیس کی سماعت ہو رہی تھی۔

عدالت نے پہلے ہی نتن یاہو کی اس استدعا کو مسترد کر دیا تھا کہ انہیں غیر ملکی مہمانوں سے ملاقات کی وجہ سے حاضری سے معافی دی جائے، تاہم عدالت نے صرف سماعت کے دورانیے میں کچھ کمی کی اجازت دی تھی۔

عدالت کی راہداریوں میں نتن یاہو اور پیراگوئے کے عہدیدار کے ہاتھ ملانے کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اپنے پیغام میں کہا کہ پیراگوئے کے سپیکر کو نیر عوز (ایرانی حملے سے متاثرہ علاقہ) لے جانے کے بجائے عدالت کے کمرے میں لایا گیا؛ یہ انتہائی شرمناک ہے۔ نتن یاہو آج دنیا کے سامنے اسرائیل کے لیے ایک بدنما داغ بن چکے ہیں۔

یاد رہے کہ نتن یاہو کو بدعنوانی کے تین بڑے مقدمات کا سامنا ہے، جن میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ انہوں نے صدر اسحاق ہرتزوگ سے معافی کی درخواست بھی کر رکھی ہے، لیکن ان مقدمات کا مستقبل ابھی تک غیر یقینی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *