سونیا گاندھی نے کہا کہ جواہر لال نہرو کو بدنام کرنا آج کی حکمراں طاقت کا اہم ترین ہدف ہے۔ ان کا مقصد صرف نہرو کو مٹانا نہیں بلکہ اس سماجی، سیاسی و معاشی بنیاد کو ختم کرنا ہے جس پر ہمارا ملک قائم ہوا۔


i
5 دسمبر کو دہلی کے تاریخی ’جواہر بھون‘ میں ’نہرو سنٹر انڈیا‘ کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس موقع پر کانگریس کی سینئر لیڈر سونیا گاندھی نے جواہر لال نہرو کے نظریات، ان کی سوچ اور موجودہ وقت میں ان کی شخصیت کو مسخ کرنے کی ہو رہی کوششوں پر سیر حاصل تقریر کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آج شام آپ سب کے ساتھ ہونا میرے لیے باعثِ مسرت ہے، تاکہ ہم اپنے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی یاد اور اُن کی خدمات کا احترام کر سکیں۔ وہ جدید ہندوستان کے حقیقی معمار تھے۔ اُن کی پوری زندگی پارلیمانی جمہوریت میں گہرے یقین سے تعبیر ہے۔ اُنہیں منصوبہ بند معاشی ترقی پر کامل یقین تھا اور سائنسی مزاج کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کے استحکام سے گہری وابستگی بھی تھی۔‘‘
سونیا گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’جواہر لال نہرو کی میراث آج بھی ہماری روزمرہ زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن وہ اب بھی کروڑوں ہندوستانیوں کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ اتنی عظیم المرتبت شخصیت کی زندگی اور کارناموں کا تجزیہ اور تنقید ہو، اور ہونا بھی چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اگرچہ اُنہیں اُن کے عہد اور اُن چیلنجوں سے الگ کر کے دیکھنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے جن کا سامنا اُنہوں نے کیا۔ اس تاریخی پس منظر کو نظر انداز کرتے ہوئے اُن کی شخصیت کو پرکھنے کا طریقہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اُن کی خدمات پر جاری علمی بحث کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ساتھ ہی اُنہیں منظم طریقے سے بدنام کرنے، کم تر دکھانے و بدخواہی کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کو ناقابل قبول ٹھہراتے ہیں۔‘‘
