
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد، جس میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی تھی، ناکام ہو گئی۔ قرارداد کو صرف چار ووٹ ملے جبکہ نو ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
نشست کے آغاز میں روسی مندوب نے امریکہ اور یورپی ممالک (ای 3) کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی اپیل کی۔
چینی مندوب نے بھی مغربی ممالک کو ایران کے جوہری معاملے میں کشیدگی پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔
فرانسیسی نمائندے نے ایران پر عدم تعاون کا الزام عائد کیا اور قرارداد کو مسترد کر دیا۔
چینی مندوب نے ووٹنگ کے بعد ایک بار پھر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) بحال کیا جانا چاہیے اور اس کی ناکامی کا اصل سبب 2018 میں امریکہ کا معاہدے سے نکل جانا ہے۔
اس اجلاس میں برطانیہ، جرمنی، الجزائر، پاکستان اور جنوبی کوریا کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اجلاس سے خطاب کریں گے۔
