پہلے ہر جنگ کسی کی شکست میں یا فتح میں ختم ہوتی تھی اور اس زمانے کی جنگیں بھی مختلف قسم کی ہوتی تھیں لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی نے اب کی جنگوں کی شکل ہی بدل دی ہے، جس کی وجہ سے اس کے نتائج بھی بدل گئے ہیں۔ جاری جنگ کا حل جنگ بندی یعنی سمجھوتہ میں ہی نظر آتا ہے کیونکہ کوئی ملک کسی ملک پر تو قبضہ نہیں کر سکتا، کامیابی کی صورت میں صرف اور صرف حکمرانوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔ سمجھوتہ سے جہاں تمام قوتوں کے سر پر لٹکی تلوار ہٹ سکتی ہے، وہیں سب کو جائز مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ بہرحال نیتن یاہو کی طرز سیاست کا دور ختم ہونا چاہئے اور پوری دنیا میں امن قائم ہونا چاہئے تاکہ بچے اپنے خواب پورا کر سکیں، جوان اپنی محبت کو پروان چڑھا سکیں اور بزرگ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیل سکیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
محاذ جنگ پہ لایا ہوں ساتھ چند گلاب
دعا کرو کہ یہ ہتھیار کارگر ہو جائے
سنا رہا ہوں تجھے داستان عرض و نیاز
خدا کرے کہ ترے دل پہ کچھ اثر ہو جائے
