یاد رہے کہ مصطفیٰ آباد میں چار منزلہ عمارت کے گرنے سے 11 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے تھے۔ دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کی 70 فیصد سے زیادہ آبادی ایسی کالونیوں میں رہتی ہے جہاں عمارتوں کے نقشے منظور ہی نہیں کیے جاتے۔ یہاں تک کہ وہ کالونیاں جو 1977 میں منظور ہو چکی تھیں، آج تک ان میں بھی تعمیراتی نقشے پاس نہیں ہوتے، جو ایک افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی چونکہ ملک کی راجدھانی ہے، اس لیے یہاں روزانہ کی بنیاد پر آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا بلڈنگ بائی لاز اور تعمیراتی قوانین میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں تاکہ لوگ قانونی طور پر اپنے مکانات بنا سکیں۔
دیویندر یادو نے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو اس حادثے کا براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ 2015 میں یہاں بی جے پی، 2020 میں عام آدمی پارٹی اور 2025 میں دوبارہ بی جے پی کے ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں اور ان سبھی کے دور میں غیر مجاز تعمیرات اپنے عروج پر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میونسپل کارپوریشن میں 15 سال تک بی جے پی کا کرپٹ راج رہا اور گزشتہ 3 سالوں سے عام آدمی پارٹی اقتدار میں ہے، دونوں جماعتوں کے دور میں غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ ملا۔
