امریکہ میں سڑک حادثہ کی شکار خاتون کوما میں، ویزا کے لیے بھٹک رہے رشتہ دار، سپریا سولے نے جئے شنکر سے مانگی مدد

ماتثرہ خاتون نیلم شندے کے والد نے کہا، “ہمیں 16 فروری کو حادثہ کے بارے میں پتہ چلا اور تب سے ہم ویزا کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں ابھی تک ویزا نہیں ملا ہے۔”

<div class="paragraphs"><p>نیلم شندے (فائل)، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>نیلم شندے (فائل)، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

نیلم شندے (فائل)، تصویر سوشل میڈیا

user

امریکہ میں اس مہینے سڑک حادثہ کا شکار ہوئی ہندوستانی خاتون اب کوما میں چلی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں اس کے کنبہ کے اراکین اس سے ملنے کے لیے ویزا کو لے کر مرکز سے مسلسل مدد کی گہار لگا رہے ہیں۔ نیلم شندے کے والد تاناجی شندے نے اس معاملے میں کہا، “ہمیں 16 فروری کو حادثہ کے بارے میں پتہ چلا اور تب سے ہم ویزا کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں ابھی تک ویزا نہیں ملا ہے۔”

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نیلم شندے کے چچا نے کہا کہ کنبہ فوری طور پر ویزا حاصل کرنے کے لیے پاسپورٹ دفتر گیا اور مرکزی وزیر مرلی دھر موہول، سابق رکن پارلیمنٹ شرینواس پاٹل اور سابق وزیر بالا صاحب پاٹل (دونوں ستارا) سے بھی رابطہ حاصل کیا لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔

ادھر این سی پی (ایس پی) ایم پی سپریا سولے نے شندے کے والد کو ویزا دلانے کے لیے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر سے مدد مانگی۔ انہوں نے کہا یہ ایک تشویشناک معاملہ ہے اور ہم سبھی کو مل کر اسے سلجھانے میں مدد کرنی چاہیے۔ سولے نے کہا، “میں کنبہ سے بات کر رہی ہوں اور انہیں یقین دلا رہی ہوں کہ معاملہ سلجھ جائے گا۔”

واضح رہے کہ 14 فروری کو کیلیفورنیا میں ایک کار نے ہندوستان کے ستارا کی رہنے والی 35 سالہ نیلم شندے کو ٹکر مار دی تھی جس کے بعد سے ان کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔ ان کے سینے اور سر میں فریکچر اور چوٹیں آئی ہیں۔ وہ ابھی آئی سی یو میں بھرتی ہیں۔ ان کے کنبہ کو حادثہ کے دو دن بعد پتہ چلا۔ کنبہ کے مطابق اسپتال نے ان کے دماغ کے آپریشن کی اجازت مانگی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *