خطرے کی گھنٹی! تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے 'سٹی کِلر ایسٹرائڈ'، ٹکر ہوئی تو مچ جائے گی تباہی

سائنس دانوں کا کہنا ہے 2032 میں یہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے۔ ہندوستان، چین، پاکستان بھی اس کے ٹکرانے کے لیے ممکنہ ملک بتائے گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
user

سائنس دانوں نے زمین کی طرف آنے والے ایک بڑے ایسٹرائڈ کو لے کر ڈرانے والی پیشن گوئی کی ہے۔ اس ایسٹرائڈ یعنی سیارچہ کا نام ایسٹرائڈ 2024 وائی آر 4 رکھا گیا ہے۔ یہ ایک بڑے طیارہ کے سائز کا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2032 میں یہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے۔ اس دوران اس میں شدید دھماکہ کا امکان ہے۔ اگر یہ زمین کے کرہ ہوا میں داخل کر گیا تو اس کی رفتار 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی شہر تباہ ہو جائیں گے۔ ہندوستان، چین اور پاکستان بھی اس کے ٹکرانے کے لیے ممکنہ ملک بتائے گئے ہیں۔ چین نے اس ایسٹرائڈ سے نپٹنے کے لیے انجینئروں کی فوج کو کام پر لگا دیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایسٹرائڈ 40 سے 100 میٹر چوڑا ہو سکتا ہے۔ حساب کے مطابق پہلے اس کے زمین سے ٹکرانے کا امکان صرف 1٫3 فیصد ہی تھا لیکن اب یہ امکان بڑھ کر 2 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔ دوسری طرح سے غور کریں تو 98 فیصد امکان ہے کہ یہ سیارچہ زمین سے بغیر ٹکرائے ہی نکل جائے گا۔ اس کی رفتار اور راستے کے حساب سے امکان بدلتے رہتے ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ زمین سے دور نکل جائے اور ٹکرانے کا امکان پوری طرح سے ختم ہو جائے۔

ناسا اور ESA کا منصوبہ ہے کہ مارچ میں ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اسے قریب سے دیکھا جائے گا۔ وہیں 2028 میں سائنس داں اسے اور واضح طور پر دیکھ سکیں گے اور صحیح حساب کر پائیں گے۔ سائنس داں فی الحال سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ایسٹرائڈ کتنا نقصان کر سکتا ہے۔ اس کے سائز، رفتار اور کمپوزیشن پر توجہ دی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سیارچہ زمین سے ٹکرا گیا تو کرہ ہوا میں ہی دھماکہ ہو جائے گا۔ اس دھماکہ سے 8 ملین ٹن ٹی ایم ٹی کی توانائی نکلے گی جو کہ ہیروشیما میں گرائے گئے ایٹم بم سے 500 گنا زیادہ ہوگی۔ اس دھماکہ میں 50 کلومیٹر کے دائرے میں سب کچھ ختم ہو جائے گا، اس لیے اس ایسٹرائڈ کو ‘سٹی کلر’ بھی کہا جا رہا ہے۔ خطرے کا اندیشہ افریقہ، جنوبی ایشیا میں ہے۔ اس میں ہندوستان سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔ بنگلہ دیش، پاکستان، نائیجیریا، وینوزویلا، کولمبیا، ایکواڈور اور ایتھوپیا، سوڈان کو بھی خطرے کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *