انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مسلم تنظیموں اور اپوزیشن کی تجاویز کو نظرانداز کر کے اس بل کی منظوری کی سفارش کی، جو غیر جمہوری اور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی ہے۔ مولانا مدنی نے حکومت میں شامل خود کو سیکولر کہنے والی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مفاد پرستی اور بزدلی کا ثبوت دیا اور مسلمانوں کے مفادات کے لیے حکومت پر دباؤ نہیں ڈالا۔ انہوں نے ان جماعتوں کو خبردار کیا کہ وہ اس ایکٹ کو پارلیمنٹ میں منظوری سے روکنے کے لیے اقدامات کریں، ورنہ اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو جمعیۃ علماء ہند اس کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی اور وقف املاک کے تحفظ کے لیے جمہوری و دستوری ذرائع اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائدادیں واقف کی منشا کے مطابق استعمال ہونی چاہئیں، کیونکہ یہ وقف علی اللہ ہوتی ہیں، اور حکومت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
