مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، آنتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے گستاخانہ سمندری رہزنی جیسے اقدامات کے خلاف کاروائی کا مکمل حق حاصل ہے۔
ایروانی نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ ایران ان اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت اور مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایرانی تجارتی جہازوں کو سمندر میں غیر قانونی طور پر روکنا اور ان پر قبضہ کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ امریکہ ان غیر قانونی اقدامات کے تمام نتائج کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے، جن کی وجہ سے عالمی امن اور خطے کی سلامتی پر منفی اثر مرتب ہورہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل حق ہے کہ وہ اس گستاخانہ کارروائی کے خلاف جوابی کارروائی کرے۔
ایرانی سفیر نے اس خط میں اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ امریکہ کے ان اقدامات کی شدید ترین مذمت کرے۔ ایران نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے فوری طور پر اپنی غیر قانونی کارروائیاں بند کرے اور بغیر کسی شرط کے تمام ضبط شدہ کشتیوں اور اموال کو آزاد کرے۔
ایروانی نے اپنے خط میں مزید کہا کہ امریکہ کے یہ اقدامات سمندری رہزنی اور دہشت گردی کے مترادف ہیں اور اس سے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
